تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 351
۳۳۴ گئے کہ ان کا اسمبلی کے اکثر ممبروں اور حکومت کے افسروں کو بھی پتہ نہ لگ سکا۔اور جو فیصلے کئے گئے وہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے منافی تھے۔ان کا رروائیوں سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچا اور ملک میں ذاتی ، طبقاتی اور صوبائی رقابتوں اور شک وشبہ کے جذبات نمایاں طور پر اگھر آئے اور ملک کا آئینی نظام درہم برہم ہو گیا۔اور بعض ہمسایہ ممالک کی طرف سے فوجی مداخلت کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اس پرستیدنا المصلح الموعود نے اپنے ۲۲ اکتوبر / ۲۲ اخاء کے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ کو دعا کی تحریک خاص کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :- ان حالات میں میں تمام جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دعاؤں سے کام لے۔آئندہ آٹھ دس دن ہمارے ملک کے لئے نہایت نازک ہیں۔دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ان ایام میں خاص طور پر دعا کریں کہ جو لوگ بر سر اقتدار میں وہ کوئی ایسا طریق اختیار نہ کر یں جو اسلام کی ترقی ، اس کی قوت اور اس کے استحکام میں روک پیدا کرنے والا ہو۔ہمارے خدا میں سب طاقتیں پائی جاتی ہیں۔اگران لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے تو وہ ان کی اصلاح کر سکتا ہے اور اگر ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی تو وہ ان کے شہر سے ملک کو بچا سکتا ہے اور وہ اس جنتر کو بھی توڑ سکتا ہے جو ملک کو تباہ کرنے والا ہو۔پس خدا تعالے کے سامنے جھکا جائے اور اسی سے دُعائیں کی جائیں کہ الہی یہ کام ہماری طاقت سے یا ہر ہے ہم خود بہت تھوڑے ہیں اور ہماری تعداد بہت ہی تھوڑی ہے ہم ان امور میں دخل نہیں دے سکتے اور نہ ملک کی حفاظت کے لئے کوئی ذریعہ اختیار کر سکتے ہیں۔لیکن اکثریت تیرے ہاتھ میں ہے اگر وہ قابل اصلاح ہے تو تو اس کی اصلاح کر سکتا ہے اور اگر وہ قابل اصلاح نہیں تو تو اُن کے درمیان جھگڑے اور تفرقے بھی پیدا کر سکتا ہے۔اسے خدا اگر وہ قابل اصلاح نہیں تو تو ان میں تفرقہ ڈال دے تاکہ ملک تباہ ہونے سے بچ جائے اور تا مسلمان آئندہ پیدا ہونے والے خطرات سے محفوظ رہیں اگر تم سچے دل سے دعائیں کرو تو خدا تعالیٰ مسلمانوں کی حفاظت کا سامان پیدا کر دیا لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے لیکن تم وہ ہو جنہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ، کانوں سے منا اور اپنے ہاتھوں سے چھوا بغرض تم نے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کی ہر رنگ میں تحقیقات کر لی ہے اگر تم دعاؤں میں لگ جاؤ تو یقیناً یہ بات خدا تعالیٰ کی طاقت سے باہر نہیں وہ ملک کی حفاظت کا کوئی i