تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 343
بھارت کو ساری دنیا میں تن تنہا کر کے چھوڑ دیا ہے۔اسی لئے سلامتی کونسل کے انتخاب میں بھارت کو صرف ایک اور ایران کو ۶ھ ووٹ ملے۔یہ اس بات کا اظہار ہے کہ عام دنیا بھارت سے بنی منتظر اور اس کی سرگرمیوں کو بری نظر سے دیکھتی ہے۔ہر چند پاکستانی وزیر خارجہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی بین الاقوامی عدالت کی رکنیت میں کامیابی کسی نہ کسی درجہ میں ان کی ذاتی کامیابی بھی ہے مگر ساتھ ہی یہ پاکستان کی امن دوستی اور بین الاقوامی ساکھ کے اعتراف کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔گو پاکستان نے اس انتخاب کے لئے کوئی بڑی کوشش نہ کی تھی اس پر بھی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں نے بالاتفاق ان کو منتخب کر کے یہ ظاہر کر دیا کہ دنیا کے انصاف پسند عوام پاکستان کو عزت محبت اور دوستی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اور انہیں پاکستان کی معقولیت پسندانہ پالیسیوں کا پورا احساس ہے۔پاکستان کی یہ کامیابی اور بھارت کی یہ ناکامی ان لوگوں کی نکتہ چینی کا واضح جواب ہے جو بھارت کے بین الاقوامی سیاست کے ماہر خصوصی پنڈت نہرو کی غیر معمولی ذہانتوں بین الاقوامی اثراور مشرق و مغرب کو لڑنے کی پالیسی کو سراہتے کبھی نہیں تھکتے۔اور پاکستان کی ہوشمندی معاملہ فہمی اور اصول دوستی کو ہدف تنقید بنایا کرتے ہیں۔کشمیر میں بھارت جس بد معاملگی پر چل کر عارضی کا میابی حاصل کر سکا ہے اور سلامتی کونسل کے سلس اقبالی کے باوجود بھارت کی امن دشمنی کو روکنے میں جو نا کامی ہوئی ہے۔اسے وہ بھارت کی بین الاقوامی سیاست کی کامیابی اور پاکستان کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔یہ تو صحیح ہے کہ عارضی طور پر کشمیر میں بھارت بین الاقوامی رائے عامہ کو ٹھکرانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن معقولیت پسندی اور مفاہمت کیشی سے یہ مسلسل انحراف بہر حال اپنے نتائج پیدا کر کے رہے گا۔چنانچہ آج عملا ساری دنیا مہندوستان سے ناراض ہے اور اس کی امن دشمن حرکات کو ملامت کی نظر سے دیکھتی ہے۔سلامتی کونسل کے انتخاب اور بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے مقابلہ میں یہ شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا وقار برابر گر رہا ہے۔اور اس کے برعکس پاکستان کو عام دنیا میں محبت اور عزت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔پہنچ یہ ہے کہ معاملہ فہمی معقولیت پسندی اور امن دوستی بہر حال اپنے نتیجے پیدا کر کے رہتی ہے خواہ یہ نتیجے دیمر ہی میں کیوں نہ نکلیں۔بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے لئے انتخاب عدلیہ کے دو متضاد تصورات کو یکجا کرنے کی