تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 342
۳۲۵ جس کا ہیولا چوہدری ظفر اللہ خاں نے تیار کیا تھا۔ہم اس موقع پر اپنی خوش گوار تمناؤں کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کی یہ جیت ایک عظیم کارنامہ سہی لیکن اس کا میابی میں خود بھارت کا وہ اقدام بھی شامل ہے جس کی وجہ سے اس کوناکامی کا منہ دیکھنا پڑیا " کے -۲ اخبار جنگ کراچی نے اکتوبر ۱۹۵۴ء کے ادارتی نوٹ میں لکھا :۔بین الاقوامی عدالت کے ایک بیج کی جو جگہ سر نگل راؤ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی اس پر پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری ظفراللہ خان کا انتخاب ہو گیا۔اور اس طرح بھارت کو ایک زبر دست شکست اور پاکستان کو ایک شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔بھارت نے اس نشست کو برقرار رکھنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا۔اور اپنے پورے ذرائع سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی مگر سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ کیا اور اس طرح ایک پاکستانی کو وہ اعزاز حاصل ہو سکا جوہ بلاشبہ قابل ناز ہے۔اسی کے ساتھ بھارت کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔وہ سلامتی کونسل کی نشست کے لئے بھی امید دار تھا مگر وہاں بھی اسے ایک سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔اور بھارت کو صرف ایک اور ایران - پیرو اور بلجیم کو علی الترتیب ۵۶ - ۵۶ - اور ۵۲ ووٹ ملے۔اور یوں بھارت سلامتی کونسل کا رکن بھی منتخب نہ ہو سکا، پاکستان کے وزیر خارجہ کا بین الاقوامی عدالت کی رکنیت پر منتخب ہو جانا اور بھارت کے پہلے در پے دو اہم انتخابات میں ناکام ہو جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستان کا بین الاقوامی وقار تیزی کے ساتھ گر رہا ہے جبکہ پاکستان اور دوسرے اسلامی ملکوں کی مقبولیت برابر بڑھ رہی ہے پچھلے دنوں بھارت نے بالتسلسل ایسی حرکتیں کی ہیں جن سے بین الاقوامی رائے عامہ اس سے ناراض ہوتی چلی گئی ہے۔اور غیر جانبدار ممالک کو یقین ہو گیا ہے کہ ہندوستان امن کا حامی نہیں بلکہ ایشیا میں بدامنی انتشار اور اختلافات کے بیج بو رہا ہے کشمیر گوا۔لنکا اور اس سے پہلے حیدر آباد اور جونا گڑھ وغیرہ کے معاملہ میں بھارت نے جو پالیسی اختیار کی ہے اس نے ش اخبار مسلمان کراچی و اکتوبر ۹۵۴ار بجواله اخبار رفتار زمانہ لاہور ۱۳ نومبر ۱۹۵۴ د می ۲-۳)