تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 340
۳۲۳ کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔اسمبلی کے اجلاس میں رائے شماری ہونے پر چھہ ہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب وزیر خارجہ پاکستان کے حق میں ۳۳ اور ہندوستان کے امیدوار جسٹس رادھا د نو د پال کے حق میں ۲۹ آراء شمار ہوئیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہندوستان پر برتری عطافرمائی اور حضرت چوہدری صاحب بین قوامی عدالت کے بیج منتخب ہو گئے حالانکہ ہندوستان نے اپنے امیدوار کو کامیاب کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا۔اے اس اعزاز پر اسلامی حلقوں میں بہت خوشی کا اظہار کیا گیا اورسلم پریس نے اس انتخاب کا پُر جوش خیر مقدم کیا۔بطور نمونہ چند تاثرات درج ذیل ہیں :- اخبار مسلمان (کراچی) نے 9 اکتوبر ۱۹۵۴ ء کو لکھا: ر بین الاقوامی عدالت کے سابق جج مسٹر بی۔این۔راؤ کی وفات سے عدالت مذکور میں جو جگر خالی ہوئی تھی اس کے لئے پاکستان اور بھارت کے امیدواروں کے درمیان پچھلے چند ہفتوں سے زبر دست رسہ کشی جاری تھی۔یہاں یہ کہ دنیا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ بھار اپنے امیدواروں کی کامیابی پر بہت زیادہ مطمئن بھی تھا۔لیکن بھارت کی ساری خوشگوار توقعات اور سیاسی جوڑ توڑنا کام ہو کر رہ گئی جبکہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں خفیہ رائے دہی کے ذریعہ زیر سمحت حج کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔اور پاکستان کے وزیر خارجہ اپنے حریف کے مقابلہ میں کامیاب ہو گئے۔اگر چہ پاکستانی نمائندہ چوہدری ظفر اللہ خان کا انتخاب سخت کش مکش کے بعد مل میں آیا ہے لیکن یہ ایک ایسی کامیابی ہے جس کے پس منظر میں بھارت اور پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آج بین الاقوامی رائے عامہ میں پاکستان نے کافی اہمیت حاصل کر لی ہے۔اور بتدریج ایک ممتاز مقام کا حامل بھی بن چکا ہے۔بین الاقوامی عدالت کے لئے پاکستانی نمائندہ چو ہدری ظفر اللہ خان کا انتخاب بر اور است چند اہم سیاسی نتائج کا علمبردار ہے۔یہ سیاسی نتائج مستقبل قریب میں اہم اور نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔چوہدری ظفر اللہ خان کی کامیابی بلاشبہ پاکستان کے عالمی وقار اور امن پسند حکمت عملی کی کھلی ہوئی ضمانت ہے۔ے، ملاحظہ ہو اخبار ملت لاہور ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۴ء ص ۲ کالم ۴-۵