تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 21 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 21

19 پیغام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ دیا ہے اس کا مجھے (کافی) وسیع علم ہو جائے گا۔جو روگ کرن (NTOROGE KARAN ) ایک ماؤ ٹاؤ قیدی تھے آپ نے ۱۲ جنوری ۱۹۵۹ء کو لکھا کہ یکی قریباً ۵۰ سال کی عمر کا آدمی ہوں۔اپنی جوانی سے عیسائی تھا لیکن اب یکی قرآن کریم کے مطالعہ کا ارادہ رکھتا ہوں۔۵ - مسٹر محمد ڈی۔ایم۔مادھو نے ۲۸ جون ۱۹۵۹ء کو ہونا اوپن کیمپ CHOLA OPEN CAMPS سے لکھا یہ کتاب یعنی قرآن کریم کا سواحیلی ترجمہ) بڑی اہم ہے اور یہی وہ کتاب ہے جس نے مجھے اور عمر کو اس قدر یقین اور اطمینان دلا دیا ہے کہ ہم کو بغیر کسی اور کے مشورہ کے مسلمان ہو جانا چاہیئے۔ہول کیمپ میں جو کیکویو قبیلے کے افراد قیدی ہیں وہ مشن سے زیادہ تر یہی کہتے ہیں کہ انہیں مذہب اسلام کی کتب بالخصوص قرآن کریم مہیا کیا جائے۔پھر اپنے ایک اور خط مورخ ۱۲ اگست ۱۹۵۸ء میں لکھا کہ جس گھر میں خدا کی روشنی رہتی ہے اس گھر کی کنجی قرآن کریم ہے۔یقینا اگر قرآن سواحیلی زبان میں آج سے دس سال قبل ترجمہ ہوچکا ہوتا تو اس سے کینیا کے مسائل حل ہو گئے ہوتے ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ آپ کو یہ اطلاع دینی پڑ رہی ہے کہ ہم مسلمانوں کے بڑے دشمن تھے لیکن اب ہمیں یہ مجھے آگئی ہے کہ وہ (صحیح اپنی آواز جو تمہیں پکار رہی ہے وہ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ہے۔۔مسٹر مناسح کا بوجی جوگونا (MAMASSEH KABUGI NIUGUNA ) نے ۲ را گست ۱۹۵۹ء کو ہولا اوپن کیمپ سے ایک طویل خط لکھا جس میں انہوں نے بیان کیا کہ ، اماؤ ٹا ؤ قیدیوں نے اپنے پرانے مذہب کو چھوڑ دیا ہے اور قرآن کریم کا سواحیلی ترجمہ پڑھنے کے بعد اسلام کو قبول کر لیا ہے۔انہوں نے مزید ۱۸ افراد کی فہرست بھیجی جو اس ترجمہ کے پڑھنے کی طرف مائل ہیں ایک ان میں سے ہر ایک کو قرآن کریم کا ترجمہ مہیا کر دیا گیا ہے۔مسٹر کا بوجی جو گونا نے مؤرخہ 9 کو پھر لکھا کہ میں اور بہت سے قیدی جنہیں آپ نے مہربانی سے قرآن مہیا کیا آپ کے مشن کے اس مفید کام کے شکر گذار ہیں جو آپ اس ملک میں کر رہے ہیں۔ہم اس (کتاب) کو بار بار پڑھ رہے ہیں کیونکہ ہمیں یہ بہت مفید معلوم ہوتی ہے۔بہت سے لوگ جو اپنی رائے تبدیل کر رہے ہیں اور عیسائیت میں ان کی پوپ سپی ختم ہو رہی ہے انہیں اس