تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 335
خدمت خلق کے اسلامی مطمع نظر ایک ایمان ارور به مومن کی مودودی کا اس تمام نیافت انسان پر وسیع ہوتا ہے اور وہ اپنے فرائض کی بجا آوری میں محض اللہ تعالے کی خوشنودی کو مد نظر رکھتا ہے نہ کہ بندوں کی قدر شناسی کو جیسا کہ قرآن عظیم میں ہے۔إِنَّمَا نُطْعِكُمْ دَوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شَكُوراه الدهر) ہم صرف رضائے الہی کے لئے تمہیں کھلاتے ہیں تم سے کسی بدلہ اور شکریہ کے طلبگار نہیں ہیں۔ایک ایسے مرحلہ پیر جبکہ جماعت احمدیہ پاکستان کی بے لوث اور مثالی خدمات کو پورے ملک میں سراہا جا رہا تھا اور مشرقی اور مغربی حصوں میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔حضرت مصلح موعود نے ضروری سمجھا کہ دنیا بھر مں پھیلی ہوئی جماعت کو کھول کھول کر بتادیا جائے کہ خدمت خلق کا اسلامی مطمح نظر یہ ہے کہ میں جو کچھ کرنا ہے خدا کی خاطر کرنا ہے۔چنانچہ حضور نے یکم افادر اکتوبر یہ منی کے خطبہ حج میں ارشاد فرمایا کہ۔۱۹۵۴۰ء یر جمعہ۔کئی احمدی اس بات سے چڑ جاتے ہیں کہ جن لوگوں کی ہم مددکرتے ہیں وہی کچھ عرصہ کے بعد ہم سے وشمنی کرنے لگ جاتے ہیں لیکن یہی چیز تو مزہ دیتی ہے کیو نکہ اگر وہ لوگ جن کی خدمت کی جائے مخالفت کرنے لگ جائیں تو ہمارا دل اس بات پر خوش ہوگا کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے انسان کی خاطر نہیں کیا بلکہ اللہ تعالے کی خاطر کیا ہے ابھی اس طوفان میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔۔۔ایک نہیں لبس سروس کمپنی کے متعلق ہمیشہ یہ شکایت آتی ہے کہ وہ اپنی لاریاں ربوہ میں نہیں ٹھہراتی بلکہ ان کی لاریاں یا تواحد نگر کے قریب ٹھہرتی ہیں یا چنیوٹ کے پاس جا کر ٹھہرتی ہیں تاربورہ سے احمدی سوار نہ ہوں جب طوفان آیا اور سڑک پانی کے نیچے آگئی تو مسافروں کی امداد کرنے کے لئے ربوہ کے خدام سڑک پر گئے۔اس بس سروس کمپنی کی ایک لاری پانی میں پھنس گئی یحبب خدام مدد کے لئے گئے تو ڈرائیور نے کہا تم داری کو ہاتھ نہ لگاؤ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں چنانچہ ڈرائیور اور مسافر کافی وقت تک زور لگاتے رہے لیکن داری نہ نکلی۔بعد میں وہ مجبور ہو کر خدام کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ لاری نکالنے میں ہماری مدد کی جائے چنانچہ کچھ قدام گئے اور انہوں نے نہایت محنت سے اس لاری کو با ہر نکال دیا ڈرائیور نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے ہماری خاطر بہت تکلیف برداشت کی ہے اس دوران میں کیسی لڑکے نے یہ کہہ دیا کہ آپ شکر یہ تو ادا کرتے ہیں مگر کیا احمدیوں کو کبھی اپنی لاری میں سوار بھی کریں گے ؟ اس لڑکے