تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 324
غیروں نے اس کی تعریف کی اور تمام اخبارات میں شور پڑ گیا۔اور دنیا خدام الاحمدیہ کے کام سے روشناس ہو گئی۔پس به خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اس موقعہ پر ہمیں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق دی۔اب ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم خدا تعالی کے اس فضل کا شکر یہ اس رنگ میں ادا کریں کہ پہلے سے بڑھ کر خدمت خلق کے فرائض انجام دیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔آمین۔ذیل میں چند ایک مجالس کی مساعی کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔مجلس ریوه ا۔سیلاب کی آمد کی اطلاع قبل از وقت مل جانے کی وجہ سے خدام ملحقہ بارہ دیہات میں مختلف پارٹیوں کی صورت میں پھیل گئے اور سیلاب کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ساتھ لوگوں اور ان کے مال مویشی اور سامان خور و نوش کر محفوظ مقامات پر پہنچانے میں پوری تندہی اور جانفشانی سے مصروف عمل رہے جس کی وجہ سے ۱۹۵۰ء کے سیلاب کے مقابلہ میں باوجود زیادہ شدت کے بھی نقصان بہت کم ہوا۔۲ سیلاب آنے پر ربوہ اور احمدنگر کے درمیان سڑک پر ایک جگہ جو تقریباً دو فرلانگ چھوٹا ٹکڑا ہے سیلاب کا پانی ایسی تیزی کے ساتھ ہو رہا تھا۔جس کی آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی اور پانی کے ساتھ بہنے والے خطرناک قسم کے سانہوں نے اس خطرہ کو اور بھی زیادہ خطر ناک بنا دیا تھا۔لیکن ربوہ کے خدام نے جان ہتھیلی پر رکھ کر مسافروں کی امداد کی اور انہیں پانی سے پار اتارا۔اس کی یہ صورت کی جاتی تھی کہ کچھ خدام آگے موٹے موٹے رستے پکڑ لیتے اور کچھ خدام ان رستوں کا دوسرا سرا پکڑ لیتے اور بچے میں مسافروں کو لے لیتے۔اور ان کے ساتھ کچھ خدام سامان اٹھاتے۔اور یہ پارٹی مسافروں کو پانی سے پار کرتی۔اسی طرح چند خُدام مس کے آگے آگے چلتے تاکہ بس کسی گڑھے وغیرہ میں نہ گر پڑے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے خدام نے یہ کام سارا سارا دن کیا اور بیک وقت ۵۰ گرام اس ڈیوٹی پر حاضر رہتے اس کے علاوہ کچھ خدام کی ڈیوٹی مسافروں کو کھانا کھلانے اور کھانا پکانے پر تھی۔خدام کھانا پکوا کر سڑک پر لاتے اور پریشان حال مسافروں کی خدمت میں پیش کرتے۔ان تمام مساعی کا ذکر سرگودھا کے مشہور سہ روزہ اخبار شعلہ نے صفحہ اول پر نمایاں سرخیوں کے ساتھ کیا ہے کے اخبار شعلہ نے اپنے در اکتوبر ۱۹۵۸ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر نمایاں حروف میں لکھا کہ :۔بیان کیا جاتا ہے کہ ربوہ اور منگر کے درمیانی حصہ میں حمدیہ جاعت کے رضا کاروان عام مسافروں کی نہایت جانفشانی " سے بہترین و قابل قدر امداد کی جسے عوام و خواص نے بے حد پسند کیا (بحواله الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۴ء ص ۵)