تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 317 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 317

٣٠٠ فصل پنجم باب مشرقی پاکستان اور اگست شانہ کے شروع میں مشرقی پاکستان ایک تباہ سیلاب اور کی سیلاب کی زد میں آگیا۔یہ سیلاب ایسا خوفناک تھا کہ جماعت احمدیہکی امدادی سرگرمیاں را کے پسینے سے وانا فوری قراردیا۔منہ ڈھا کہ اسے بنگال کے احمدی مبلغین کی طرف سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں یہ رپورٹ پہنچی کہ ایک بستی کے باشندوں نے ہمیں فون کیا کہ کوئی شخص ہماری حالت نہیں پوچھتا آپ کم از کم کوئی آدمی تو ہمارے پاس بھجوائیں، تا یہ دیکھ کر کہ ملک میں ہمارے پُرسان حال موجود ہیں ہماری ہمت بندھ جائے۔چنانچہ مبلغین کی ایک وند وہاں پہنچا۔ہر طرف پانی ہی پانی کھڑا تھا گاؤں کا کوئی شخص ایک کشتی لے آیا اور انہیں اس میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔انہوں نے دیکھا کہ لوگوں نے پانی میں بانس گاڑ کر ان پر گھاس پھونس ڈال رکھا ہے وہ ان بانسوں کی چھتوں پر ہی سوتے اور انہی پر کھانا پکاتے ہیں مبلغین کو دیکھ کر گاؤں کے سب لوگ جمع ہو گئے اور سه اخبار پاسیان یکم ستمبر ۱۹۵۴ء - پاکستان پوسٹ در ستمبر ۱۹۵۴ء (جواله الفضل ۱۵ ار ستمبر ۱۹۵۴ء ص ۴) سے اُن دنوں مندرجہ ذیل سینہ مبلغین خدمات سلسلہ سجا لا رہے تھے : ا مولانا رحمت علی صاحب در تئیس المبلغین - مباشر محمد عمر صاحب فاضل۔مولوی محمد جمیل صاحب شاہد ڈھاکہ) مولوی ظل الرحمن صاحب فاضل (بر من بڑیہ) سید اعجانا صد صاحب (تیج گاؤں)۔مولوی محب اللہ صاحب (چار کیا، علاوہ ازیں مولوی ممتاز احمد صبا مولوی علی اله صار مولوی منور علی صا بالترتیب ڈھاکہ بیٹا انگار کو سیل میں دیہاتی مبلغ کی حثی سے مصروف عمل تھے۔رپورٹ سالانہ مد انجمن احدید پاکستان ۵۳ ۱۹۵۳ ص ۵۷)