تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 305 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 305

تو مجھے چھوڑ سکتے ہیں۔چنانچہ آپ نے چھوڑ دیا۔اور فرمایا کہ نہیں کہنا چاہیئے تھا کہ اللہ ہی بچا سکتا ہے۔کیا میرے منہ سے سننے کے باوجود بھی تمہیں اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔اب دیکھ تو خدا تعالے نے اپنے رسولوں کی ایک نشان کے طور پر حفاظت تو کر دی لیکن دراصل یہ ذمہ داری صحابیہ کی تھی۔خدا تعالے نے کہا میرا کام حفاظت نہیں۔ہاں موت سے بچانا میرا کام ہے۔اور موت سے میں بچالوں گا۔لیکن اس نے حملہ میں کوئی روک پیدا نہیں کی پس کچھ کام جماعت کو بھی کرنے پڑتے ہیں۔خلیفہ پر پابندیاں عائد نہیں کی جاسکتیں خلیفہ اپنا کام کرے گا۔اور جماعت کو اپنا فرض ادا کرنا ہو گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ذہنیت کو بدلا جائے۔اے پھر ریا یاد "حقیقت یہ ہے کہ مذہب قبول کرنے کے معنے ہی یہ ہوتے ہیں۔کہ انسان کی حرکات ، انکار اور دماغ سب تبدیل ہو جائیں۔اگر یہ نہیں ہوتا۔تو کسی مذہب کے قبول کرنے سے اسے کچھ بھی نہیں ملتا باقی سب چیزیں رسمی ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب فرمایا اگر میں کسی انسان کو اپنا خلیل بنانا چاہتا تو ابو بکر کو بناتا۔یہ تم سب پر فضیلت رکھتا ہے تم کہہ سکتے ہو کہ اسے ہم پر کونسی فضیلت حاصل ہے اسے تم پر جو فضیلت ہے وہ نماز روزہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان جذبات کی وجہ سے ہے۔جو اس کے دل میں موجزن ہیں۔نماز اور روزہ کا اداکرنا بھی ضروری ہے لیکن ان کے ہوتے ہوئے بعض اوقات خدا تعالیٰ نہیں ملتا۔خدا تعالے کو پانے کی خاطر اپنی ذہنیت کو بدلنا ضروری ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے۔وہ ہر کام کو بغیر سوچنے کے کہ یہ عقل کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں کرتا چلا جاتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ میں وعظ فرما رہے تھے بعض صحابہ محلیس کے کناروں پر کھڑے تھے۔آپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوے فرمایا بیٹھ جاؤ۔اس وقت حضرت عبداللہ بن مسعود پاس کی گلی میں سے گزر رہے تھے۔آپ کے کان میں یہ آوازہ پڑی۔تو آپ وہیں بیٹھ گئے۔اور بیٹھے بیٹھے مسجد کی طرف انہوں نے گھٹتے ہوئے آنا شروع کر دیا کسی شخص نے آپ سے کہا یہ احمقانہ حرکت ہے کہ تم گلی میں اس طرح بیٹھ کر چل رہے سے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۴ء ص ۵۴ - ۵۶