تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 303 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 303

۲۸۶ باغ دیا تھا۔دودھ اور شہد کی نہریں عطا کی تھیں اور ہر قسم کی آسائش کا سامان مہیا کر دیا تھا لیکن تم اتنے شکست نکلے کہ تم نے احتیاط کو بھی نظر انداز کر دیا۔اور شیطان کو اندر آنے دیا۔اب تم سے یہ شہد اور دودھ کی نہریں اور دوسرے آسائش کے سامان واپس لے لئے جاتے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کو بھی خدا تعالیٰ نے نعمتیں دیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ دیا کہ تم یہ نہ تھا کہ میں تمہیں چیزیں بھی دوں گا۔اور پھر ان کی حفاظت بھی کروں گا حفاظت تمہیں خود کرنی ہوگی۔اگر تم نے سستی اور غفلت سے کام لیا تو میں نے تمہارا ہاتھ نہیں بٹانا۔ہاں اگر تم کام کرو گے اور پوری محنت سے کام کرو گے اور اس کے بعد بھی کوئی کسر رہ جائے گی۔تو اس کو نہیں پورا کروں گا یعنی اگر تم خود رخنہ پیدا کرو گے تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ہاں اگر تمہارے پوری جد و جہد کرنے کے باوجود کوئی رخنہ باقی رہ گیا۔تو میں اس کو پورا کروں گا حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے وقت میں بھی یہی ہوا حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں بھی یہی ہوا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی یہی ہوا۔آپ کو یہودیوں نے کھانے میں زہر ملا کر دے دیا۔بعض لوگ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ران کی دعوت کو منظور کیوں کر لیا لیکن آپ کی شان یہی تھی۔کہ آپ ان کی دعوت قبول کر لیتے۔یہ صحابہ کا کام تھا کہ وہ کھانے کو چکھ کر دیکھ لیتے اور اطمینان کر لیتے۔اب مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔تو بعض دوستوں نے لکھنا شروع کر دیا۔کہ خلیفہ وقت کو نماز کیلئے مسجد میں نہیں آنا چاہیے اسی طرح ملاقات کا سلسلہ بھی بند کر دینا چاہیے۔میں نے کہا اس کا مطلب تو یہ ہو کہ خلیفہ وقت کو کسی منارہ پر باندھ دیا جاتا اور جماعت اپنا فرض ادا نہ کرے جب تک خلافت رہے گی خلیفہ مسجد میں نماز پڑھانے ضرور جائے گا۔وہ ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رکھے گا۔چاہے دشمن اس پر حملہ کرے یا نہ کرے اسی طرح وہ اپنے فرائض بھی بجالائے گا۔آگے جماعت کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ وہاں کوئی مشکوک آدمی تو موجود نہیں ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہودیوں کی دعوت کو منظور کر لیا تھا۔اور آپ کی شان یہی تھی کہ اس دعوت نامے کو منظور فرمالیتے صحابہ کا یہ فرض تھا کہ وہ حفاظت کے پیش نظر کھانا چکھ لیتے۔لیکن ان سے یہ غلطی سرزد ہوگئی۔انہوں نے کھانا چکھا نہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھالیا۔آپ کو الہا نا پتہ لگ گیا۔کہ اس کھانے میں زہر ملا ہوا ہے اور