تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 293
۲۷۶ ہوا تھا۔تیسرے پرچہ کی نوبت آئی تو سنسر شپ کی پابندی بھی لگ چکی تھی۔کاپیاں لیکر خاکسار تعلقات عامہ کے دفتر میں گیا جس کے ناظم اس وقت جناب یوسف العزیز صاحب تھے۔انہوں نے کاپیاں رکھ لیں اور کہا کہ کل آکر لے جائیں۔دوسرے روز گیا تو انہوں نے پھر ٹال مٹول سے کام لیا اور فرمانے لگے کہ کچھ دیر اور انتظار کریں۔مجھے صورت حال کا اندازہ ہو چکا تھا۔چنانچہ اس وقت لاہور میں محترم حضرت مرزا عزیز احمد صاحب قیام فرما تھے بر تن باغ جاکر ہیں نے اُن کی خدمت میں ساری تفصیل بتائی وہ فوراً تیار ہوئے اور اس وقت کے صوبائی وزیر اطلاعات جناب عبدالحمید دوستی صاحب کے ہاں گئے اور فاروقی کے سلسلہ میں گفتگو کی۔دستی صاحب نے وعدہ کیا کہ وہ اصل حالات معلوم کر کے آپ کو اطلاع دیں گے۔ان کی طرف سے اطلاع کیا آئی تھی شام کے پانچ بجے کی خبروں میں ریڈیو سے یہ اعلان ہو گیا کہ فاروق بند کر دیا گیا ہے۔ران سب امور کی اطلاع حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور محترم ناظر صاحب دعوة و تبلیغ کی خدمت میں بھیجوائی گئی اور آئندہ کے لئے رہنمائی اور ہدایت کا طلبگار ہوا جس پر خاکسار کو واپس ربوہ آنے کا ارشاد ہوا۔ربوہ پہنچ کر محترم ناظر صاحب دعوت و تبلیغ کی ہدایت پر خاکسار نے پھر اپنے اصل دفتر یعنی وکالت تبشیر تحریک جدید میں رپورٹ کی۔وکالت تبشیر نے جب پھر میرا اسے میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی سے ہدایت طلب کی تو حضور نے فرمایا اس وقت سلسلہ کو جرنلسٹوں کی ضرورت ہے۔اسے کراچی بھجوا دیا جائے وہاں "المصلح میں کام کا تجربہ حاصل کرے۔اور مجھے رپورٹ دیا کرے۔چنانچہ اس کے چند روز بعد ہی حضور سے مل کر خاکسار کراچی چلا گیا جہاں اُس وقت اخبار کے انچار ج محترم شیخ روشن دین صاب تنویر مرحوم تھے۔اسی دوران الفضل کی بندش کا عرصہ ختم ہو گیا۔ارماچ ۵۳ ۹ہ کو حضر خلیفہ ایسیح الثانی پر حملہ ہوا۔اگلے ہی روز اور بائیٹ کو مجھے بذریعہ تار ربوہ ہلوایا گیا۔چنانچہ سوار آپ کی شام کو خاکسار کراچی سے بذریعہ چناب ایکسپریس ربوہ پہنچا حضور پر نور کی زیارت اور ملاقات کا شرف اور حاصل کیا۔زخم کی وجہ سے حضور لیٹے ہوئے تھے۔فرمایا ابھی جا کر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے ملو۔اور ان سے ہدایات لیکر لاہور جاکر فوراً لفضل " جاری کر دو۔اس کی پابندی کا عرصہ ختم ہو گیا ہے۔چنانچہ اسی وقت خاکسار میاں صاحب کے دولت کدہ پر حاضر ہوا۔اور حضور کے ارشاد سے اطلاع دی حضرت میاں صفات ے فرمایا تم کل صبح ہی لاہور چلے جاؤ اور اس کا نام میر جیسے بھی ہوا الفضل“ جاری کر دو خواہ دو صفحہ کا i