تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 283 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 283

مولوی ابو العطاء صاحب مجھے نظر آئے۔تو میں نے کہا مولوی صاحب ہوا کیا ، یعنی میں بھی یہ مجھ ہی نہیں کہ تھا کہ مجھ پر حل ہوا ہے بہاریں یہ مجھا تھا کہ کوئی پتھرگیا ہے یا زلزلہ آگیا ہے یا معلوم نہیں کیا بات ہوئی ہےاور میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا ہوا ہے یہ دیوار اتفاقی گرگئی ہے یا زلزلہ آیا ہے یا یا ہوا ہے۔اس پرانہوں نے ار بعض دوسرے ساتھیوں نے کہا کہ آپ کسی شخص نے حمد کی ہے میں نے کہا اچھا مجھ پر عمل کیا گیا ہے اسوقت مجھے احساس ہوا کہ شاید یں نے اپنا ہاتھ زخم پر رکھا ہوا ہے۔چنانچہ میں نے جب ہاتھ دیکھا تو سارا ہاتھ خون سے بھرا ہوا تھا۔اتفاقاً کسی کو گھر میں خیال آیا اند اس نے لاہور میں میرے لڑکے مرزا ناصر احمد کو فون کر دیا کہ اس طرح حملہ ہوا ہے مرزا ناصر احد نے مرزا مظفر احمد کو بتایا جو میرا داماد بھی ہے اور بھتیجا بھی ہے۔انہوں نے اپنے طور پر دہم نے تو نہیں کہا تھا اور نہ ہمیں خیال تھا، ایک ڈاکٹر کو کہا کہ تم وہاں چلو اور چل کر دیکھو۔ڈاکٹر امیرالدین صاحب جو لاہور کے سرجن ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج کے یونیورسٹی کے امتحانات ہو رہے ہیں اور کل میں نے لڑکوں کا امتحان لینا ہے۔اس لئے میں نہیں جاسکتا۔پھر انہوں نے ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب سے کہا اور وہ ان کو لے کر آگئے۔ان کے ساتھ بعض دوسرے ڈاکٹر بھی آگئے مثلاً ڈاکٹر مسعود صاحب پہنچ گئے ڈاکٹر محمود اختر صاحب جو قاضی فیملی میں سے ہیں۔(مسعود احمد صاحب بھی قاضی فیملی میں سے ہی ہیں) وہ بھی پہنچ گئے۔یہ میو ہسپتال میں کلو فارم دینے پر افسر مقرر ہیں۔ڈاکٹر یعقوب صاحب غالبا ان سے پہلے آچکے تھے اور وہ گر بھی گئے تھے۔شیخ بشیر احمد صاحب ڈاکٹر صاحب اور چو ہڈی اسد اللہ خان صاحب لاہور سے آرہے تھے۔گھبراہٹ میں انہوں نے شاید موٹر تین چلوا دیا۔تو موٹر گر گیا۔جس کی وجہ سے یہ سارے زخمی ہوئے اور قریباً ہر ایک کی ہڈیوں کو ضرب پہنچی کسی کی کہنی کی ہڈی ٹوٹی اور کسی کی پیسنے کی بڑی ٹوٹ گئی۔بہر حال ڈاکٹروں نے زخم کو دیکھا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے نز دیک تھے۔اس کا پھرا پر پیشین کرنا پڑے گا۔یہیں نے کہا مجھے اتنی کوفت ہو چکی ہے۔اور اب رات کے ایک بجے کا وقت قریب آگیا ہے۔اگر آپ صبح تک انتظار کر سکیں تو کیا حرج ہے رہ گئے کہ اچھا مشورہ کر کے نہاتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر مسعود صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ریاض قدیر صاحب کہتے ہیں کہ گردن پر درم ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اندر خون جاری ہے اور کوئی رگ پھٹی ہوئی ہے۔اس لئے صبح تک انتظار کرنا خطر ناک ہے۔اگر اور انتظار کیا گیا تو خون میں زہر پیدا ہو جائے گا۔اور انہیں اصرار ہے کہ اپریشن ابھی ہونا چاہیئے چاہے رات کے وقت تکلیف بھی ہوگی۔لیکن اپریشن ضرور کرنا پڑے گا۔چنانچہ میں اس پر راضی ہو گیا۔کہنے لگے ہوش کیا جائے۔میں نے کہا مجھے بے ہوش نہ کریں۔یونہی اپریشن کرور خداتعالی توفیق دے گا۔اور میں اس کو