تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 276
۲۵۹ کی ہے۔اور واشگاف الفاظ میں دین میں جبر کرنے کے خلاف فتویٰ دیا ہے سورۃ الکافرون خودرو اداری فراند لی اور بلند حوصلگی کی تعلیم دیتی ہے۔لکھ دینکم ولی دین ان تمام حقائق و معارف کی روشنی میں موسمون پر حملہ انتہائی شرمناک امر ہے اور ایک مجنونانہ فعل ہے اور اس قسم کے تشدد سے مسائل کا حل تلاش کرنا انتہائی غلط ہے اسے شرقی پاکستان در شہور بنگہ اخبار" ملت نے سوار مارچ ۱۹۵۴ء کی اشاعت میں اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے لکھا:۔ایک خبر سے معلوم ہوا ہے کہ احمدیہ جماعت کے امام جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد کو ایک غیر معروف دشمن نے لاہور کے ربوہ نامی مقام پر چاقو سے زخمی کر دیا ہے۔جناب مرزا صاحب پر اس وقت حملہ کیا گیا، جبکہ آپ رات کی نماز کے بعد گھر جارہے تھے۔ان کو بچاتے ہوئے دو اور آدمی بھی مجروح ہوئے ہیں۔یہ خبر دردناک ہے۔لیکن اس مذموم حال کے پیچھے جو مقصد پو شیدہ ہے۔وہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا مذہبی امور میں اس قسم کے حاسدانہ طریق کو اختیار کرنا نہایت افسوسناک امر ہے۔احمدیہ جماعت کے عقائد کے ساتھ ہمارے عقائد کے بہت سے اختلاف رہ سکتے ہیں۔لیکن اس بنا پر جماعت احمدیہ کے امام پر اس قسم کے مجرمانہ حملہ کی کوئی شخص آزادی ضمیر کے ساتھ تائید نہیں کر سکتا یہ مذموم فعل پاکستان کے لئے میرے ایام کا آغاز ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ اس حادثہ کے تحت میں جس قسم کا مذموم ارادہ بھی پوشیدہ کیوں نہ ہو گو رنمنٹ اس کی پور سی تفتیش کر کے مجرم کو پوری سزا دینے کا طریقہ اختیار کرے گی۔لے (ترجمہ)۔بنگلہ زبان میں شائع ہونے والے مشہور اخبار آزاد ڈھا کہ نے اپنی اشاعت مورخہ ۴ ار ما رح ۱۹۵۴ء میں حسب ذیل اوار یہ تحریہ کیا :۔احمدی جماعت کے امام حضرت میاں بشیر الدین محمود احمد کو ایک شرع النفس نے چاقو سے حملہ کر کے نہایت کاری ضرب لگائی ہے۔لاہور کی ایک خبر سے ظاہر ہے کہ وہاں امن عامہ میں خلل واقع ہونے کے خوف سے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ہم اس قسم کے بزدلانہ حملہ کی خدمت کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ہم امید کرتے له سحواله الفضل یکم اپریل ۹۵۴ له صدا سے سجواله بدر "قادیان - ۲۱ اپریل