تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 272
۲۵۵ strong such differences of opinion may be, the use of the dagger or the bullet to further a particular point of view can- It should also: be realised that not be tolerated or justified۔individual terrorism usually defeats the very purpose for which it is employed and often produces repercussions contrary to those derived۔We fully endorse the statements on the Rabwah incident given by Maulana Abul Hasanat, Maulana Daood Ghaznavi, and Master Taj-ud-Din Ansari and earnestly hope that all Pakistanis will discourage the development of a trend which can do untold harm to the country۔(The Pakistan Times: March 13, 1954) حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد امام جماعت احمدیہ پر جو قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔بلاشبہ ملک کی رائے عامہ کے ہر گوشے سے اس کی شدید مذمت کی جائے گی۔ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ قاتل کا کوئی ذاتی عناد اس فعل کا محرک تھا یا جماعت احمدیہ کی مذہبی یا سیاسی مساعی سے شدید اختلاف کی بنا پر اس نے ایسا کیا ہے۔اول الذکر صورت میں ربوہ کا یہ حادثہ اسی نوعیت کے دوسرے جرائم سے کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔لیکن اگر اسی نوجوان کے سیاسی یا مذہبی عقائد اس کا باعث بنے ہیں تو یقینا ان تمام لوگوں کو جو صاحب اثر ہیں اور رائے عامہ کو سدھار سکتے ہیں۔اس طرف اپنی پوری توجہ کہ نیکی ضرورت ہے۔اختلاف رائے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، لیکن ایک خاص نقطہ نظر کی خاطر گولی یا خنجر کا استعمال کبھی بھی مبنی بر انصاف اور درست نہیں سمجھا جا سکتا، یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ انفرادی دشت انگیزی عموماً اس مقصد کو فوت کر دیتی ہے جس کے حاصل کرنے کے لئے ایسا اقدام کیا گیا ہو، بلکہ اکثر اوقات اس مقصد کے بالکل برعکس نتائج پیدا کرتی ہے۔ربوہ کے اس حادثہ کے متعلق مولانا ابو الحسنات مولانا داؤد غزنوی اور ماسٹر تاج الدین انصاری نے جو بیانات دیئے ہیں ، ہم اس کی پوری تائید کرتے ہیں اور اس بات کی کلی امید رکھتے ہیں کہ ہرپاکستانی اس قسم کے رجحانات کو جس سے