تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 267 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 267

۲۵۰ ۱۵۔حکومت پاکستان کے ایک ریٹائرڈ گنہ ٹینڈ آفیسر (جو بڑی ذمہ داری کے عہدہ پر متعین تھے) نے لکھا:۔آپ پر قاتلانہ حملہ کی خبر اخبارات میں پڑھ کر جس قدر تشویش ہوئی ہیں اسے الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔بارگاہ عالی میں سربسجود ہوکر شکریہ اداکیا۔کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کی جان بچا لی اور بنزول ملزم اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہا۔احمد شہ دکھاکرتا ہوں کہ شانی مطلق آپ کو شفا کا ملہ و عاجب لہ عطا فرمائے۔آمین لاہور میں تمام ذمہ دار اخبارات ہیں اس حملہ کی مذمت کی گئی ہے اور ان دنوں ہزاروں کی تعداد میں خطوط موصول ہو رہے ہوں گے۔لیکن براہ کرم مجھے بھی اپنی صحت کی نسبت مطلع فرمائیں۔اخبارات کی خبروں سے تسکین نہیں ہوتی۔۔لاہور کے ایک معزز تاجر نے لکھا:۔معلوم ہوا ہے کہ کس شخص نے آپ کے اگر پر دار کیا ہے مگر خدا وند کریم نے آپ کو محفوظ رکھا ہے۔اور اب صحت اچھی ہے۔خداوند کریم فضل کرے۔میں بیمار ہوں۔ورنہ خود حاضر ہوتا۔اس لئے اپنے عزیزہ کو آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ان کے آنے پر دل کو تسلی ہوگی " ۱۷۔ایک ریٹا ئر ڈسی ہیں۔پی آفسر کراچی نے لکھا:۔مجھے یہ خبر پڑھ کر دلی رنج و افسوس ہوا کہ آپ یہ بزدلانہ حملہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔کہ اس نے آپ کو محفوظ رکھا۔مجھے آپ کے ساتھ دلی ہمدردی ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے" ۱۸۔ایک ایم ایل۔اسے نے اپنے خط میں لکھا۔مراه آپ پر حملہ سے بے حد پریشانی اور افسوس ہوا۔باری تعالیٰ نے بے حد فضل و کرم کیا ہے کہ آپ اس بزدلانہ اقدام سے محفوظ رہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوم کی رہنمائی کیلئے زندہ و سلامت رکھا۔مولیٰ کریم آپ کا سایہ تا دیر سلامت رکھے سے پنجاب کے مذہبی لیڈروں کی طرف سے قاتلانہ حملہ کی میت اوہوں کے استاد نہ میں بیڈروں کی له الفضل ۲۲ مارچ ۱۹۵۳ متر