تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 268
۲۵۱ طرف سے قاتلانہ حملہ کی واضح لفظوں میں مذمت کی گئی چنانچہ لکھا۔ار خطیب مسجد وزیر خان مولانا ابو الحسنات نے اس سلسلہ میں ایک بیان میں کہا کہ "اسلام اپنے پیروں سے ایک انبیاتی احد عادلانہ نظام کی حتی ضمانت کا مطالبہ کرتا ہے جو ختم نبوت کا عملی نفاذ اور دین کی اصلی عظمت کا اہتمام ہے۔مشرقی بنگال کے افسوس ناک واقعات کے بعد ربوہ کا یہ واقعہ اسلامی احساس ذمہ داری کے موثر نفوذ میں جس کسی کا پتہ دیتا ہے۔وہ بے حد رنجیدہ اور تعجب خیز ہے۔ایسے اقدامات نہ صرف امن کو برباد کرنے والے ہیں، بلکہ اسلامی اخلاق و احکام کے مخالف ہیں۔مجھے یقین ہے کہ حکومت اور عوام اس بارہ میں ذمہ دارانہ عاقبت اندیشی سے کام لیں گے اور سد باب کی ایسی موثر ندا پر اختیار کریں گے جو ان تمام امکانات کو ختم کرے جو تشہد و ظلم کا موجب بن سکتے ہیں؟ - مولانا وارو د غزنوی نائب صدر جمعیت العلماء السلام نے کہا و میں نے نہایت افسوس کے ساتھ آج کے اخبارات میں مرزا بشیرالدین محمود پر قاتلانہ حملہ کی خبر بھی۔حملہ آور کے متعلق ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کون شخص ہے۔اور کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ حملہ آور مرزا صاحب کی جماعت کے اس حصہ سے تعلق رکھتا ہو جیسے مرزا صاحب کی ذات سے شدید اختلافات ہیں یا یہ حمل مرزا صاحب کی جماعت اور عام مسلمانوں کی چفلش کا نتیجہ ہوں۔بہرحال ملک میں کوئی گوشہ فکر ایسانہ ہو گا۔جواس قسم کی متشدانہ حرکات کو پسند کرتا ہوں میری بی نظمی رائے ہے کہ نہ میں با سیاسی اختلافات کی نا پر نانماند حملوں یا تمندانہ کاروائیوں کی اگرا جازت دی گئی یا حوصلہ افزائی کیگئی۔تو فسادات کا نہ ختم ہو نیوالہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اور یہ ملک وملت کے لئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہوگا۔اس لئے غیر مبہم الفاظ میں کیس اس افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتا ہوں۔اور یہ قطعی رائے رکھتا ہوں کہ اس قسم کی نقش دانہ سرگرمیاں مسائل کے حل کرنے میں کسی طرح مدد نہیں دے سکتیں۔بلکہ سراسر نقصان دہ ہوتی ہیں۔کیونکہ تشدد کو روکنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تشدد کرنا پڑتا ہے۔اور معمولی تشدد کے مقابلہ میں وسیع پیمانہ پر تشدد کیا جاتا ہے، اس وقت وہ اندھا اور بہرہ ہوتا ہے اور قصور وار اور گنہگار کا امتیاز نہیں کرتا۔اور قوم بحیثیت مجموعی نقصان عظیم کی متحمل ہوتی ہے۔آل مسلم پارٹیز کنونشن کی مجلس عمل کے رکن ماسٹر تاج دین انصاری نے اس واقعہ کی مذمت کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس احمقانہ فعل کی سخت مذمت کرتے ہیں کیو نکہ عقیدہ ختم نبوت کا ایسی حرکتوں سے کوئی تعلق نہیں۔