تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 254
۲۳۷ لمبی عمر کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔سیلون لنکا: پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کو ہونے لکھا کہ ہمیں اس خبر سے سخت صدمہ پہنچا ہے۔اللہ تعالے حضور پر فضل ور رحم فرمائے اور صحت کے ساتھ لمبی عمر بخشے۔نیز درخواست کی کہ حضور کی صحت کے متعلق روزانہ اطلاع دی جایا کرہے۔کینیا کالونی : نیروبی سے مولانا شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے تارہ دیا کہ مشرقی افریقہ کے تمام احمدی اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر بجا لاتے ہیں کہ اُس نے حضور کی حفاظت فرمائی۔احباب جماعت اجتماعی دعائیں کر رہے ہیں، صدقات دے رہے ہیں اور حضور کی درانہ ٹی عمر کے لئے دعا گو ہیں اس طرح نیرو بی سے میر سید احمد صاحب نے بھی اپنے اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے حضور کی صحت کی اطلاع بذریعہ تار مانگی۔یوگنڈا : کلنڈنی سے جناب صالح محمد صاحب نے اس ظالمانہ فعل پر اظہار نفرت کرتے ہوئے لکھا کہ حضور کی درازی عمر اور صحت عاجلہ کے لئے دعائیں جاری ہیں نیز بذریعہ تار حضور کی صحت اور خیریت کے متعلق خبر دریافت کی کمپالا سے ڈاکٹر علی دین صاحب نے تار دیا کہ لو گنڈا کے احمدی سخت مضطرب ہیں اور دعاؤں میں لگے ہوئے ہیں حضور کی صحت کے متعلق بذریعہ تارا اطلاع دی جائے۔امریکہ :۔واشنگٹن سے چوہدری خلیل احمد صاحب نام نے لکھا کہ امریکیہ کی احمدی جماعتوں کو دلی صدمہ پہنچا ہے۔ہم دعاؤں میں مشغول ہیں اللہ تعالیٰ حضور کو جلد صحت عطا فرمائے اور حضور کا حافظ و ناصر ہو۔واشنگٹن ہی سے امتہ الحفیظ صاحبہ اور نفیس جیسہ صاحبہ کے تار بھی اس سلسلہ میں موصول ہوئے۔نیو یارک کے احمدیوں نے اپنے تار ہیں لکھا کہ حضورہ کی ذات گرامی پر بزدلانہ حملہ سے سخت صدمہ پہنچا۔اللہ تعالے حضور کا حافظ و ناصر ہو۔ار مارچ کے بعد بھی دنیا کے بہت سے ممالک سے بے شمارہ تار آئے۔بالخصوص ہندوستان جس کے ہر صوبہ سے تار موصول ہوئے چنانچہ قادیان ، ریاست حیدرآباد دکن ، ریاست مالیر کوٹلہ ، منو بر مبٹی، صوبہ یوپی مصوبه مغربی بنگال ، مالابار ، ریاست جے پور صوبہ بہار وغیرہ مقامات سے بہت سے تار مرکز میں پہنچے اور محکمہ تار کے عملہ پر کام کا اس قدر دباؤ پڑ گیا کہ مسلسل چو نہیں گھنٹہ مصروف کا رہنا پڑا ہے بیرونی ممالک کی مخلص جماعتوں نے صرف تارہی نہیں دیتے بلکہ پاکستان کی مسلم لیگی حکومت سے بھی پر نہ ور مطالبہ س المصلح" کراچی ۲۳۰ مارچ ۱۹۵۴ / ۲۳ رامان ۳۳۳ ابش صداده