تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 253
۲۳ کہ رہی تھی۔یہ رات جس درد و کرب اور متفرقانہ دعاؤں کے ساتھ گزری اُس کا صحیح نقشہ صرف حضرت مسیح موعود علی الصلاۃ والسلام کے مندرجہ ذیل شعر سے ہی کھینچا جا سکتا ہے سے اندریں وقت مصیبت چاره ما بیکساں ند دعائے بامداد و گریه اسحار نیست یعنی اس مصیبت کے وقت ہم غریبوں کا علاج سوائے صبح کی دُعا اور سحری روزے کے اور کچھ نہیں لیے بوہ سے باہر پاکستان اور بیرونی دنیا تک اس ناپاک اور بینہ دلانہ حملہ کی خبر پاکستان ریڈیو، بی بی سی لنڈن اور بعض دیگر ملک کے ریڈ یونے آنا فانا پہنچادی میں نے دنیا بھر کے اصدیوں میں زبر دست تشویش و اضطراب کی اہر دوڑادی جماعتوں میں صدقات اور گریبانیوں کا وسیع سلسلہ جاری ہوگیا اور ہر ملک کے احمدی نہایت زخم رسیدہ دل کے ساتھ اپنے پیارے امام کی سلامتی اور درازی عمر کے لئے انفرادی اور اجتماعی دعاؤں میں مصروف ہو گئے۔اس موقع پر دنیائے احمدیت نے سید نا حضرت مصلح موعود کی ذات با برکات سے جس بے نظیر اور والہانہ عقیت و محبت کا نمونہ دکھایا وہ اپنی مثال آپ تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے گوشہ گوشہ سے ٹیلیفون اور ناروں کا تانتا بندھ گیا۔ان میں سے ایک بڑی تعداد جوابی تاروں کی تھی جن میں فوری جواب مانگا گیا تھا۔اور یہ سلسلہ کئی دنوں تک برابر جاری رہا۔مختلف ممالک سے ارب پچ کو جو تار موصول ہوئے اُن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا مناسب ہو گا :- انڈونیشیا :۔جماعت احمدیہ انڈونیشیا نے اپنے اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے حضور کی صحت کے متعلق دریافت کیا - مشرقی پاکستان - جماعت احد یہ بورون حضورکی درازی عمر کی دعا کرتے ہوئے نام دیا۔جرمنی : چوہدری عبدالطیف صاحب مبلغ جرمنی نے ہمبرگ سے اپنے اضطراب کا اظہار کیا اور حضور کی صحت دریافت کی۔برما - خواجہ بشیر احمد صاحب نے جماعت احمدیہ زنگوں کی طرف سے حضور کی صحت کے متعلق دریافت کیا اور لکھا کہ ہم حضور کی صحت کاملہ عاجلہ اور درازی عمر کے لئے دعائیں کر رہے ہیں۔سنگاپور :- سائق فاروق صاحب نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ہم حضور کی جلد شفایابی اور ہر سه " الفرقان ربوہ فروری ماریچ ۱۹۵۴ء ص ب