تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 247
حضور چل سکیں۔میں نے بائیں جانب سے حضور کو سہارا دیا اس طرح سے حضور کو سہارا دیتے ہوئے ہم دونوں حضور کو قصر خلافت کے اندر لے گئے اور حضور کے کرہ ہمیں جاکر حضور کو بستر پر لٹایا۔اسی عرصہ میں حضور کے زخم سے چند قطرے حضور کے خون کے چلتے ہوئے میری شلوار پر بھی گرے جس کا اپنے گھر پہنچنے پر میری اہلیہ کے توجہ دلانے پر مجھے علم ہوا نہیں نے کہا کہ میرے جسم سے تو کوئی خون نہیں نکلا۔یہ خون کے قطرے حضور کے ہی ہیں جو تھے چلتے ہوئے میری شلوار پہ گرے ہیں۔چنانچہ اس وجہ سے میری اس شلوار کو تبرک کے طور پر میری اہلیہ نے محفوظ رکھ لیا اور دھویا نہیں جواب تک میرے پاس موجود ہے۔پھر اُسی وقت حضور نے میرے ذریعہ یہ پیغام مسجد مبارک میں جمع شدہ احباب کے نام دیا کہ قاتل کو جان سے نہ مارا جائے تاکہ جو تحقیقات اس کے ذریعے ہو سکتی ہو یہ اس کا موقعہ ہاتھ سے نہ نکلے چنانچہ خاکسار نے جو اُن دنوں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں تھا۔یہ تعمیل ارشاد بھی کی " پولیس و حادثہ کی اطلا چوہدری غلام مرتضی صاحب بی بی ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے جو اس حادثہ ہوئے لکھا :۔کے عینی شاہد تھے انچارج صاحب تھانہ لالیاں کو اس حادثہ کی اطلاع دیتے بخدمت افسر انچارج صاحب تھانہ لالیاں ، اسلام علیکم در حمہ اللہ و بر کانتر آج مسجد مبارک ربوہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی امام جماعت احمدیہ نمانه پڑھانے کے بعد جب محراب کے مغربی دروازہ سے نکلنے لگے تو ایک نوجوان لڑکے نے جس نے صف اول میں حضور کے پیچھے ہی نماز پڑھی تھی آگے بڑھ کر باہلی کہتے ہوئے حضور پر چاقو سے حملہ کر دیا۔چاقو حضرت صاحب کی گردن میں دائیں جانب لگا اور حضور زخمی ہو کر گرے۔اقبال احمد پہرہ دار نے حضرت صاحب کو سنبھالا اور نوجوان کو پکڑنا چاہا توند کور نے پھر دوسرادار حضرت صاحب پر کیا۔لیکن یہ دار اقبال احد کے بائیں کان پر لگا۔اقبال احمدزخمی ہو گیا۔اس پر میں نے آگے بڑھ کرحملہ آور نوجوان کو پیچھے سے پکڑ لیا جملہ آور اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرتا رہا۔اس کشمکش میں میرے ناک کی بائیں جانب آنکھ کے نیچے رخسار پر چاقو کی نوک سے خراشیں آئیں۔مولوی نور الحنی عبد الحکیم جامعه مبشرین ، ماسٹر فقر الله قاضی عبد السلام ملک ولایت خان و دیگر مردمان جو نماز پڑھ چکے تھے نے حملہ آور کو پکڑ لیا۔اور چاقو بھی چھین لیا حضرت اد ابوالمنير نور الحق صاحب