تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 240 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 240

۲۲۸ دی جانے لگیں اور آپ کو قتل کرنے کے پے در پے منصوبے بھی ہونے لگے لیے اس سلسلہ میں حضور نے ۲۰ور دسمبر سالہ کی تقریر میں پانچ واقعات بیان فرمائے جو حضور ہی کے الفاظ مبارک میں درج کئے جاتے ہیں :- پہلا واقعہ۔ایک گزشتہ جلسے کا واقعہ ہے۔ہمیں تقریر کر رہا تھا اور تقریر کرتے کرتے میری عادت ہے کہ میں گرم گرم چائے کے ایک دو گھونٹ پی لیا کرتا ہوں تا کہ گلا درست رہے کہ اسی دوران میں جلسہ گاہ میں سے کسی شخص نے ملائی کی ایک پیالی دی اور کہا کہ یہ جلدی حضرت صاحب تک پہنچا دیں کیونکہ حضور کو ضعف ہو رہا ہے۔چنانچہ ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے میرے کو اور تیسرے نے چوتھے کو وہ پیالی ہاتھوں ہاتھ پہنچانی شروع کر دی۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے دو سٹیج پر پہنچ گئی بیٹے پر اتفاقا کسی شخص کو خیال آگیا اور اس نے احتیاط کے طور پر ذرا سی ملائی چکھی تو اُسکی زبان کٹ گئی تب معلوم ہوا کہ اس میں زہر لی ہوئی ہے۔اب اگر وہ ملائی مجھ تک پہنچ جاتی اور میں خدانخواستہ اُسے چکھ لیتاتو اور کچھ اثر ہوتا یا نہ ہوتا ، اتنا توضرور ہوتا کہ تقریب رک جاتی۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک دیسی عیسائی آیا جس کا نام جے میتھیوز تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ مجھے قتل کر دے۔یہاں سے جب وہ ناکام واپس لوٹا تو اس کا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور اس نے اُسے قتل کر دیا۔اس پر عدالت میں مقدمہ چلا۔اور اس نے سیشن کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میرا ارادہ اپنی بیوی کو ہلاک کرنے کا نہیں تھا۔بلکہ میں مرزا صاحب کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔نہیں نے ایک جگہ کسی مولوی کی تقریر یشنی۔جس نے ذکر کیا کہ قادیان کے مرزا صاحب بہت بڑے آدمی ہیں۔اور اُن میں یہ یہ برائیاں ہیں۔میں نے اُس کی نظریہ کے بعد فیصلہ کیا کہ میں قادیان جاکہ مرزا صاحب کو مار ڈالوں گا۔چنانچہ میں پستول لے کر قادیان گیا۔اتفاقاً اس روز جمعہ تھا۔جمعہ کے خطبہ میں چونکہ بہت لوگ اکٹھے تھے۔اس لئے مجھے ان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔دوسرے دن میں نے سنا کہ وہ پھیر و چیچی چلے گئے ہیں۔میں پستول لیکر اُن کے پیچھے پیچھے پھیر و چیچی گیا اور میں نے سمجھا کہ وہاں آسانی سے میں اپنے مقصد میں کا میاب ہو سکوں گا مگر وہاں ه الفضل ، ار جنوری ۱۹۳۵ء صفحه ۸ کالم ۱ ! ! !