تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 236
۲۲۴ اسلامی تعلیم کے تفوق اور کمال کا اقرار بھی کہیں دبی زبان سے اور کہیں علی الاعلان ہونا شروع ہو گیا ہے۔یہ کیفیت واضح طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد نمایاں ہونی شروع ہوئی ہے۔لیکن اس حقیقت کے کھلے طور پر تسلیم کئے جانے اور وسیع پیمانے پر زیر عمل لائے جانے کے راستے میں ایک بڑی روک ابھی تک موجود ہے جس کے دور کے بغیر یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ مختلف اقوام سرعت د مستعدی سے اس راستے پر گامزان ہوں۔وہ رو یہ ہے کہ علی طبقہ گر ذہنی طور پر اسلامی تعلیم کی برتری کا قائل ہوتا جارہا ہے لیکن اس تعلیم کی ترویج کی تائید پر آمادہ ہونے سے قبل اس کا عملی نمونہ مشاہدہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ہمیں نہایت حسرت و اندوہ کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ انفرادی مثالوں کو چھوڑ کر قومی بلکہ جماعتی پیمانے پر بھی ہم یہ نمونہ ابھی دنیا کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہیں۔علمی طور پر کسی جامع تعلیم کے اصولوں اور اس کی تفاصیل کو سمجھ کر ان کے مال اور برتری کو تسلیم کر لیا نیا کی موجودہ مشکلات کے حل کرنے کے لئے کافی نہیں۔۔۔۔۔یہی حال آج اسلامی تعلیم کا ہے۔اول تو خود عامتہ المسلمین اس سے کما حقہ آگاہ نہیں ہیں۔پھر اسے دوسروں کے سامنے مناسب طور پر پیش کرنے کا خاطر خواہ انتظام نہیں۔باوجود اس کے جس قدر بھی غیر سلم علی طبقے کچھ اپنی محنت اور کوشش سے اور کچھ مسلمانوں کی انفرادی اور جماعتی ستی کے اثر سے اس تعلیم سے واقفیت حاصل کرتے جاتے ہیں۔وہ اس امر کا اعتراف کرنے لگتے ہیں کہ تعلیم جامع اور موزوں ہے۔انسانی مشکلات اور الجھنوں کا حل بوجہ احسن مہیا کرتی ہے اور حیات انسانی کے مقصد اور اس کے حصول کے طریقوں کی بے نظیر رہنما ہے لیکن نہیں اسی تعلیم کا عمل نمونہ دیکھنے کی خواہش اور شوق ہے۔تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ آیا موجودہ دور میں تعلیم قابل عمل بھی ہے یا نہیں اور اپنے دعوے کے مطابق حقیقی خوشحالی اور اطمینان اور راحت کا موجب بن سکتی ہے یا نہیں ؟ اس کے بعد چودھری صاحب نے کسی قدر تفصیل سے بتایا ہے کہ اسلامی تعلیم سے کیا مراد ہے؟ اور قرآن کی آیات سے اس کی تشریح کی ہے۔خطبہ اس قدر سلسل اور مربوط ہے کہ اس میں سے ادھر ادھر کے اقتباسات دینا اس کے حق میں نا انصافی ہوگی۔اسے شروع سے آخر تک بیک وقت پڑھنا چاہیئے۔خطبہ اس قابل ہے کہ کیر تعداد میں چھپوا کر پاکستان کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میںتقسیم کیا جائے تاکہ طالب علم اور استاد دونوں اسے غور سے پڑھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں " اے اخبار قومی زبان کراچی مورخه ۱۶ با چ ۱۹۵۴ م ، بجواله الفضل ۱۴ اگست ۱۹۵۴ء مده