تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 235
۲۲۳ کی ہوا چلی۔تو یونیورسٹیوں اور کالجوں نے سیاسی لوگوں کو مدعوکرنا شروع کیا۔کیونکہ اساتذہ اور ان سے زیادہ طلباء نے طلب علم او شوق تحقیق کم کر کے عنان توجہ سیاست کی طرف موڑ دی تھی، چنانچہ تقسیم اسناد کے ملبوں کے خطبوں میں سیاست زیادہ اور علم اور آدم گری کی ترغیب کم ہونے لگی۔پاکستان جب وجود میں آیا۔تو یہاں کی یونیورسٹیوں کے خطے بھی اسی شان اور اسی رنگ کے ہوتے تھے اور ہوتے ہیں۔جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔ان خطیبوں میں سے کسی کو کبھی یہ خیال نہ گزرا۔کہ ہم وہاں نہیں میں جہاں پہلے تھے۔اب ہم پاکستان ہیں ہیں اور پاکستان کے حصول کیلئے جو بے نظیر قربانیاں کیں۔وہ کسی مقصد کے لئے تھیں؟ پاکستان ملتے ہی یہ سب کچھ بھول گئے۔ہماری تعلیم ، ہماری معاشرت ، ہماری سیاست میں کوئی ترقی اور اصلاح نہیں ہوئی تنزل ہوا ہو تو ہوا ہو۔ہمارے اکابر، سیاستدان اور لیڈر یہاں تک کہ ہمارے علماء بھی سیدھے ارو رستے سے بھٹک گئے ہیں۔بہاری تمام صلاحیتیں اب ذاتی اقتدار کے حصول میں مصروف ہیں ؟ چودھری محد ظفر اللہ خاں صاحب کا خطبہ پاکستان میں پہلا خطبہ ہے جس کی نیت ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ خاص طور پر پاکستان کی یونیورسیٹیوں اور کالجوں اور پاکستانی طلبہ کے غور و فکر کے لئے ہے اس کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والاستچا مومن ہے۔اس کے دل میں اسلام کا درد ہے۔اور قرآن کی تعلیم پر کامل ایمان اور اس پر پورا عبور ہے۔اس کے ہر لفظ اور فقرے میں اسلامی روح نظر آتی ہے۔ابتدا میں انہوں نے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ یہ صدی تاریخ انسانی میں ایک نئے ہم اور انقلابی دور کی علمبر وارتسلیم کی جائے گی۔اس صدی کے دوران میں انسانی زندگی کے ہر شعبے پر ایک انقلاب دارد ہو چکا ہے جس نے انسانی طبائع میں ایک ہیجان پیدا کر دیا ہے اور ہر طرف بے اطمینانی کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔پرانے معیا نا کامی اور غیر تسلی بخش قرار دیئے جا رہے ہیں۔اور نئے معیار ان کی جگہ پیش نہیں کئے جاسکتے جو عالمگیر مقبولیت حاصل کرچکے ہوں یا جن کی کامیابی عملی دائرے میں اتنی واضح اور روشن ہو چکی ہو۔کہ انہیں قبول کئے بغیر حیات انسانی کی تکمیل اور انسانی زندگی کے مقصد کا حصول ناممکن نظر آئے " اس صورت حال پر جناب چودھری صاحب نے ذرا اور وسیع نظر ڈالی ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں حیات کے جو نظر ہے اور منصو بے زیر بحث ہیں۔ان کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد اسلام کا نظریہ حیات پیش کیا ہے اور اپنے ہر قول کی تائید میں قرآن پاک کی آیات پیش کی ہیں۔اسی بحث کے دوران میں تحریب فرماتے ہیں کہ علم الادیان کے مطالعہ کی طرف جتنی توجہ بڑھتی جارہی ہے۔غیر اسلامی حلقوں میں وو