تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 229
۲۱۷ 44 حادثہ میں زخمی ہونے والوں کی تیمار داری اور وفات پانے والوں کے پسماندگان کے ساتھ عملی ہمدردی میں اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں کیونکہ مومن میں ہمدردی خلائق کا جذ بہ بدرجہ اتم ہوتا ہے وہ دوسروں کے غم کھو اپنا غم سمجھتا ہے اور اسے دور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا۔جماعت احمدیہ کے مخلص احباب جو ہمیشہ ہی نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے آرہے تھے اس نصیحت پر کما حقہ عمل پیرا ہوئے اور اس موقعہ پر اخوت اسلامی کا بہت عمدہ نمونہ انہوں نے پیش کیا۔حضرت مصلح موعود کو تین ماہ قبل اس المناک حادثہ کی جناب حضرت مصلح موعود کا پر معارف تخطبہ اپنی سے اطلاع ملنا، اور حضور کی دعاؤں سے تقدیر مہرم کا مل جا نا چونکہ ایک حیرت انگیز نشان تھا اس لئے خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی الصلح الموعود نے اگلے خطبہ جمہ کے دوران اپنی رویا کی مزید تفصیلات بیان کرنے کے بعد نہایت شرح وبسط سے واضح فرمایا کہ کس طرح قادر و توانا خُدا نے اپنی قادر نہ جلوہ نمائی سے تقدیر مبرم کو بدل ڈالا۔چنانچہ حضور نے اپنے اس پر معارف خطبہ میں ارشاد فرمایا۔ا یا مار نومبر ۹ہ کی بات ہے کہ میں نے رویا دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں یہاں بشیر احمد صاب اور در دو صاحب میرے ساتھ ہیں کسی شخص نےمجھ ایک نا رہا کر دیا اور کہا کہ چودری راشدخان صاب کا ہے میں نے اس لفافہ کو کھودنے بغیر یہ محسوس کیا کہ اس میں کسی عظیم الشان حادثے کی خبر ہے جو چود بری صاحب کی موت کی شکل میں پیش آیا ہے یا کوئی اور بڑا حادثہ ہے۔میں نے دیر کہ صاحب سے کہا۔لفافہ کو جلد ہی کھولو اور اس میں سے کاغذ نکالو۔دیگر صاحب نے لفافہ کھولا۔اس میں سے بہت سے کا غنہ نکلتے آتے تھے لیکن اصل بات جس کی خبر دی گئی تھی نظر نہیں آتی تھی۔آخر کار لفافہ میں صرف دو کاغذرو گئے۔لیکن اصل خبر کا پتہ نہ لگا۔میاں بشیر احمد صاحب نے کہا پتہ نہیں۔چو دھری صاحب کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے۔وہ ایک اہم خبر لکھتے ہیں لیکن اسے اچھی طرح بیان نہیں کرتے۔میں نے کہا گھبراہٹ میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔اس پر لفافہ میں دو کاغذ جو باقی رہ گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ کو میں نے باہر کھینچا تو وہ ایک فہرست تھی لیکن اصل واقعہ کا اس سے پتہ نہیں لگتا تھا اس فہرست میں ایک نام سے پہلے تک لکھا تھا اور آخر میں حد دکھا تھا۔درمیانی لفظ پڑھا نہیں جاتا تھا اس سے اتنا تو پتہ لگتا تھا کہ واقعہ میں کوئی اہم خبر ہے لیکن اصل واقعہ کا پتہ نہیں لگتا تھا۔پھر لفافہ ہیں سے انکی اور شفاف کاغذ نکلا جوہ تھا۔میں اسے دیکھنے لگا۔Tracing paper