تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 209 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 209

١٩٩ اور قومی اور مذہبی خیال نے بھی اس میں کچھ تغیر پیدا نہ کیا۔اور اس نے عدالت پر پورا اقدم مارنے سے ایسا عمدہ نمونہ دکھایا کہ اگر اس کے وجود کو قوم کا فخراور حکام کیلئے نمونہ سمجھا جائے تو بے جانہ ہو گا۔عدالت ایک مشکل امر ہے۔جب تک انسان تمام تعلقات سے علیحدہ ہو کر عدالت کی کرسی پر نہ بیٹھے تب تک اس فرض کو عمدہ طور پرادا نہیں کر سکتا مگر ہم اس سچی گواہی کو ادا کرتے ہیں کہ اس پہلا ملوس نے اس فرض کو پورے طور پرادا کیا۔اگرچہ پہلا پیلاطوس جو رو می تھا۔اس فرض کو اچھے طور پر ادا نہ کر سکا اور اسکی بزدلی نے ریح کو بڑی بڑی تکالیف کا نشانہ بنایا۔یہ فرق ہماری جماعت میں ہمیشہ تذکرہ کے لائق ہے جب تک کہ دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی، ولیسی ویسی تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا۔اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے اس کام کے لئے اُسی کو چنا ہے ۹۵۳ یہ میں کرنل ڈگلس کی عمر 9 سال کے لگ بھگ تھی اور تالیف و تصنیف کا کام آپ نے اب بھی جاری رکھا ہوا تھا۔چنانچہ اسی سال آپ کی میسری کتاب لارڈ آکسفورڈ اینڈ دی شیکسپیر جانپ (Lord Oxford and the Shakspeare gomp) چھپ کر منصہ شہود میں آئی۔ان علمی مصروفیات کے باوجود آپ نے چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ امام مسجد لندن کو نصف گھنٹہ ملاقات کا موقع دیا۔چوہدری صاحب موصوف کے ساتھ اس ملاقات میں شیخ مبارک احمد صاحب بی۔اسے ( ابن حضرت خانصاحب مولوی فرد علی صاحبت بھی تھے۔شیخ مبارک احمد صاحب کا بیان ہے کہ ملاقات کے شروع میں ہی انہوں نے دریافت کیا کہ چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا کیا حال ہے ؟ اور احمدیت کی مخالفت کا کیا حال ہے ؟ چو ہدری صاحب موصوف کی سہستی اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ چودھری صاحب کے قیمتی وجود کی قدر کرنی چاہیے امریت کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ تحریک مٹے گی نہیں۔بلکہ آئندہ ترقی ہی کرے گی۔لیکن مجھے اس کے راستہ میں بہت سی مشکلات حائل نظر آرہی ہیں پھرانہوں نے اپنی زندگی کے ان ایام پر نظر دوڑاتے ہوئے جانہ نے ہندوستان میں گزارے تھے کہا کہ ساٹھ سال کا عرصہ ہو چکا ہے مگر میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ اب تک موجود ہے سے کشتی نوح طبع اول مره