تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 197
JAZ حضرت صاحب نے تقریر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور فرمایا کہ جو لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے میرے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے وہ اس دعا کو کثرت سے پڑھیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی پنجوقتہ نمازوں میں بتلائی ہے۔اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ العمتَ عَلَيْهِہ چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے ہر وقت کثرت سے پڑھیں۔زیادہ سے زیادہ چالیس روز تک اللہ تعالیٰ ان پر حتی ظاہر کر دے گا۔میں نے تو اُسی وقت سے شروع کر دیا۔مجھ پر تو ہفتہ گذرنے سے پہلے ہی حق گھل گیا۔میں نے دیکھا کہ حامد کے محلہ کی مسجدیں ہوں وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں۔لیکن حضرت صاحب کی طرف مصافحہ کرنے کے لئے بڑھنا چاہتا تھا کہ ایک نابینا مولوی نے مجھ کو روکا۔دوسری طرف سے یکس نے بڑھنا چاہا تو اُس نے ادھر سے بھی روک لیا۔پھر تیسری مرتبہ میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کرنا چاہا تو اس نے مجھ کو پھر روکا تب مجھے غصہ آگیا اور میں نے اُسے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا حضرت صاحب نے فرمایا کہ نہیں یقصہ نہ کہ وہ بارو نہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور یکیں تو حضور سے مصافحہ کرنا چاہتا ہوں اور پیچھے کو روکتا ہے۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔میں نے صبح میر قاسم علی صاحب اور مولوی محبوب احمد اور مشتری قادر بخش کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا۔میر صاحب نے کہا کہ اسے لکھ دور کیں نے لکھ دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے نیچے لکھ دو کہ میں اپنے اس خواب کو حضور کی خدمت میں ذریعہ بیعت قرار دیتا ہوں۔یکس نے لکھ دیا۔مولوی محبوب احمد صاحب جو غیر احمدی تھے انہوں نے کہا تم کو اپنے والد کا مزاج بھی معلوم ہے ؟ وہ ایک گھڑی بھر بھی تم کو اپنے گھر نہیں رہنے دیں گے۔میں نے کہا مجھے اس کی اه حضرت میر صاحب اُن دنوں سیکرٹری انجمن احمدیہ دہلی تھے۔قبل ازیں آپ دو سال دس ماہ تک تیم خانہ انجمن موید الاسلام دہلی کے سپرنٹنڈنٹ رہے اور جیسا کہ مہم تیم خانہ مولوی عبدالاحد صاحب نے اپنے شریفکیٹ میں لکھا " انہوں نے اپنے فرائض نہایت دیانتداری سے ادا کئے ! اس کے باوجود آپ کو محض احمدی ہونے کی وجہ سے ملازمت سے جبراً علیحدہ کر دیا گیا اور آپ کا استعفاء ۳۱ جولائی ۱۹۰۵ ء کو با ضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا (بدر در دسمبر ۹۰۵ ومت) یہ قربانی چونکہ محض خدا کے واسطے تھی اِس لئے آئندہ پھل کر آپ کو پہلے دہلی پھر قادیان میں ایک لمبے عرصہ تک خدمات دینیہ بجا لانے کی سعادت حاصل ہوئی ؟