تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 196
JAY حضرت صاحب پر کچھ اعتراض کرنے شروع کئے جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ٹھر جائیں اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے کاغذ اور قلم دوات لے کر ایک مضمون لکھا اور وہ مولوی مشتاق علی صاحب کو دیا کہ آپ اسے پڑھ لیں اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آئے تو مجھ سے دریافت کرلیں اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی لکھ لیں۔پھر پہلے آپ میرا مضمون شنا دیں اس کے بعد اس کا جواب سنادیں۔مولوی صاحب نے بغیر جواب لکھے حضرت صاحب کا مضمون سُنانا شروع کیا۔حضرت صاحب نے پھر فرمایا کہ اگر جواب آپ لکھ لیتے تو اچھا تھا مگر انہوں نے کہا کہ نہیں کہیں زبانی جواب دے دوں گا۔خیر انہوں نے حضرت صاحب کا مضمون پڑھ کر سنا دیا اور دیر تک خاموش کھڑے رہے جواب نہیں دے سکے۔ساتھ کے طلباء میں سے بعض نے کہا کہ اگر ہم کو یہ علوم ہوتا کہ آپ جو اب نہیں دے سکیں گے تو ہم کسی اور کو سرغنہ بنا لیتے آپ نے ہمیں بھی شرمندہ کیا۔اس پر مولوی صاحب نے ایک طالب علم کو تھپڑ مارا اور اس نے مولوی صاحب کو مارا میفتی صاحب نے ان دونوں کو ہٹا دیا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر شروع ہوگئی اور حضرت صاحب کی تقریر میں لوگوں نے کچھ شور کیا۔جماعت کے لوگوں نے حضرت صاحب کے گرد گھیرا ڈال لیا۔اس میں کچھ تھوڑی سی جگہ کھلی رہ گئی تھی وہاں میں کھڑا ہو گیا۔اکبر خان ایک احمدی چپڑاسی تھے انہوں نے مجھ کو مخالف سمجھے کہ دھکا دے کہ وہاں سے ہٹا دیا۔تھوڑی دیر کے بعد پھر میں وہاں کھڑا ہو گیا اور وہ پھر مجھ کو دھکا دینے کے لئے آگے بڑھے تو حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ان کو روکا کہ کیوں دھکا دیتے ہو۔اکبر خان نے کہا کہ حضور یہ مخالف ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا ہے؟ جو آتا ہے اس کو آنے دو۔۔۔۔ہ حضور کی یہ تحریر وفات شیخ کے مسئلہ پر مشتمل تھی جو اخبار بد را قادیان در نومبر ۱۹۰۵ء ص پر شائع شدہ ہے : ہ آپ فرمایا کرتے تھے " میری نگاہ جو نہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چہرہ مبارک پر پڑی تو میری ٹانگیں کانپنے لگیں اور طاقت نے بالکل جواب دے دیا اور میرے دل نے کہا کہ یہ جھوٹوں کی شکل نہیں یا (بروایت حکیم عبد الواحد صاحب صدیقی)