تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 189 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 189

149 ڈاکٹر منظور احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں :- ۱۹۰۸ء میں جب حضور آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے اُس وقت مجھے زیارت کا شرف حاصل ہوا اور پہلی دفعہ قادیان آیا جب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم نے حضور کا لیکچر پیغام صلح نما ہو ر بریڈ لا ہال میں سُنایا وہ سُن کر قادیان آگیا اور پھر دوسری دفعہ ۱۹۰۸ء کے سالانہ جلسہ پر قادیان آیا۔مجھے یاد ہے کہ وہ جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہوا تھا۔اور یہ بھی یاد ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے لیکچر کے بعد جب موجودہ حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا لیکچر ختم ہوا تو حضرت خلیفہ اول نے حضور کی قرآن دانی کے متعلق چند تعریفی کلمات فرمائے تو میرے پاس ڈاکٹر بشارت احمد صاحب جو آجکل پیغامی ہیں بیٹھے ہوئے جھوم جھوم کر آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے کہ شبحان اللہ سبحان اللہ آپ کے بعد یہی خلیفہ ہوں گے۔لیکن ڈاکٹر صاحب سے اُس وقت اس لئے واقف تھا کہ وہ اُس وقت بھیرہ میں ہی تعینات تھے " له حضرت مسیح موعود صمدی مسعود علیہ السلام نے ۱۴ نومبر ۱۹۰۲ء کوپنجابی نظم میں سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ کو بہت عمدہ کام قرار دیتے ہوئے فرمایا :- و اس زمانہ کا یہی جہاد سے ہے ڈاکٹر منظور احمد صاحب مرحوم بھیروی نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ سلانوالی ضلع سرگودہا ) اور قادیان میں گزارا اور آپ دونوں جگہ اس عظیم الشان تبلیغی جہاد میں سرگرم عمل رہے۔آپ کی کتاب" امام المتقین پنجاب کے حلقوں میں بہت پسند کی گئی۔اس مقبول عام کتاب کے علاوہ آپ نے اور بھی کئی پنجابی نظمیں کہیں جو کئی لوگوں کو داخل احمدیت کرنے کا موجب بنیں۔ذیل میں آپ کی تالیفات کی فہرست دی جاتی ہے :۔امام المتقير منظوم پنجابی نجات المؤمنین منظوم پنجابی - اسلامی دوکان ، خلافت دا بلا و ۱ - ۱۹ مطالبات تحریک کنید سوانح دلپذیر، مهدی دی میٹھی۔مرزامحمدی - مهدی قادیان دے وچ آیا۔گوریچن شدی، روحانی چرخہ گھڑیال اکیا ه مراد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رض: کے رجسٹر روایات صحابہ ۵ ۳۶۰ سے " البدر ۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء : که ۱۹۲۲ء کی پہلی مجلس شوری میں آپ کو جماعت سلانوالی کی نمائندگی کا بھی موقع ملا (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۲)