تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 153
دی اور پیٹل اینڈ ریلیمیں پبلشنگ کمپنی کے حصص خریدنے کے علاوہ نئے نئے مضامین لکھنے پر خاص طور پر زور دیا اور فرمایا :- ابھی اسلامی علوم کے بہت سے ایسے حصے موجود ہیں جو صدیوں سے تشنہ تکمیل ہیں۔پھر ہر پرانے مسئلہ کے متعلق بھی نئے نئے زاویہ نگاہ سے نئے نئے دلائل مہیا کئے جا سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح اور عصمت انبیاء وغیرہ پر صدیوں سے مضامین لکھے جار ہے ہیں لیکن حضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ایسے نئے اور اچھوتے انداز سے ان مضامین کو پیش فرمایا که گویا رنگ ہی بدل ڈالا۔پس ہر تیر انے سے پرانے مضمون کو بھی پیش کرنے میں جدت سے کام لیا جا سکتا ہے۔حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے واقعہ کو ہی لے لو ابھی قرآن کریم سے مبیبیوں ایسی آیات نکالی جا سکتی ہیں جو اس واقعہ پر روشنی ڈال سکتی ہیں پھر واقعہ صلیب رومی حکومت کے عہد میں ہوا تھا لیکن اُس عہد کی تاریخوں کی چھان بین کرنے کی طرف آج تک کسی نے توجہ نہیں کی حالانکہ اگر اس طرف تو قبہ کی جائے تو بیبیوں نئے مضامین نکل سکتے ہیں جو اسلام اور سلسلہ کے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ خالص جماعتی مسائل کے علاوہ دیگر اسلامی علوم کی تحقیق و تدفین کے سلسلہ میں ہماری جماعت ابھی بہت پیچھے ہے اس طرفت تو تہ کرنے کی خاص ضرورت ہے۔فرمایا ابھی تین دن کا واقعہ ہے" المصلح" میں میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں ایک ایسا حوالہ بحوالہ علامہ سراج الدين الوشخص عرون الورد و انا اريد الباب وفريدة الغراب" کا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :- " وَقَالَتْ فِرْقَةً نُزُولُ عِيسَى خُرُ رُجُ رَجُلٍ يُشْبِهُ عِيسَى فِي الْفَضْلِ وَالشَّرَفِ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ الْخَيْرِ مَلَكَ وَلِلشَّرِيرِ شَيْطَانَ تَشْبِيْهَا بِهِمَا وَلَا يُرَادُ الْأَعْيَانُ ر صفحه ۲۶۳ مطبع مصطفی البابی الحلبي واولاده بمصر طبع ثانی مسلمانوں کے ایک گروہ نے نزولی عیسی سے ایک ایسے شخص کا ظہور مراد لیا ہے جو فضل اور شرف میں حضرت عیسی علیہ اسلام کے مشابہ ہو گا جیسے تشبیہ دینے کے لئے ایک آدمی کو فرشتہ اور شریر کو شیطان کہتے ہیں مگر اس سے مراد فرشتہ یا شیطان کی ذات نہیں ہوتی۔