تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 150
۱۴۰ آتی ہے۔گویا مصر کے لئے دونوں طرف ہی بلائیں ہیں۔راسی طرح فلسطین کا جھگڑا ہے۔یہ سویز سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ فلسطین مدفن رسول (صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہے اور فلسطین کی بد نخبت حکومت کسی وقت بھی اپنی بدنیتی سے ارض پاک کے لئے خطرہ پیدا کر سکتی ہے اور یہود چونکہ مالدار قوم ہے اس لئے بڑی طاقتیں غلاموں کی طرح اس کی تائید کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔قرآن مجید کرتا ہے کہ یہو دمسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں لیکن افسوس کہ مسلمان پھر بھی غافل ہیں۔اسلامی ممالک میں ان کے مقابلہ کے لئے کوئی ایک جہتی موجود نہیں۔وہ کسی موقعہ پر بھی اکٹھے ہو کر نہیں لڑے۔اگر ایک عرب حکومت کی سرحد پر یہود نے حملہ کیا تو باقی اسلامی حکومتوں نے محض قرار داد پاس کرنے کو ہی کافی سمجھا حالانکہ چاہئیے یہ تھا کہ وہ اس حملہ کو خود اپنے اوپر حملہ تصور کرتے اور متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرتے۔پس فلسطین کا معاملہ بھی نہایت تکلیف دہ معاملہ بن چکا ہے۔اسی طرح لیبیا سے برطانیہ نے جو معاہدہ کیا ہے یا عراق کی مالی حالت کا جس طرح برطانیہ پر انحصار ہے اور ایہ ان میں تیل کے سوال نے جو صورت اختیار کی ہے یہ سب ایسے امور ہیں جو دو گونہ مصیبت نظر آتے ہیں اور بظاہر ان کے حل کی کوئی محفوظ صورت نظر نہیں آتی۔انڈونیشیا کا ملک اپنی جائے وقوع اور اہمیت کے لحاظ سے مسلمانوں کا ایک بڑا بھاری مورچہ ہے وہاں پر مذہبی تعصب بھی بہت کم ہے لیکن افسوس کہ یہ ملک بھی خانہ جنگی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنی طاقت کو کمزور رہ کر رہا ہے۔قریباً یہی حالت پاکستان کی ہے یہاں علاوہ دیگر امور کے اقتصادی مسئلہ بھی بہت نازک صورت اختیار کر گیا ہے۔ہمارے ملک کی اقتصادی حالت اتنی خراب ہے کہ اس کی اصلاح کیلئے بہت بڑی اجتماعی قربانی کی ضرورت ہے۔جب تک ہم ملکی مصنوعات کو یا نیم ملکی مصنوعات کو تکلیف اُٹھا کر بھی رائج نہ کریں گے اس وقت تک ہماری اقتصادی حالت سدھر نہیں سکتی۔دوسرے ملکوں میں جب مصیبت آئے تو سب لوگ اجتماعی طور پر قربانی کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں مگر ہمارے ہاں عوام کو اس مصیبت کا احساس تک نہیں وہ آج بھی یہی کہتے ہیں کہ ہم وہی کھائیں گے جو پہلے کھایا