تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 130
١٣٣ اقتصادی وجوہ سے یا پبلک میں ایک خاص کو چل جانے کی وجہ سے خود بخود آباد ہو گئے تھے۔پیس ہمارا کام ایسا تھا کہ حکومت کو پبلک میں اسے بطور نمونہ پیش کرنا چاہئے تھا اور ہمیں اس کا رنامہ پر شاباش دینی چاہیئے تھی بلکہ چاہیے تھا کہ وہ فخر کرتی کہ اس غریب جماعت نے جو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئی تھی ایک الگ شہر آباد کہ لیا۔کئی سوسائٹیاں اپنے ارادہ میں ناکام رہیں، اور ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ موقعہ دیا کہ ہم نے با وجود کم مائیگی اور سامان اور ذرائع کے محدود ہونے کے شہر بسا لیا۔یہ کتنی بڑی خدمت تھی ملک کی کہ اتنی بڑی تعداد انسانوں کی جو لاہور میں پس رہی تھی ہم نے اسے یہاں آباد کر دیا اور لاہور کی CONGESTION کو دو بہ کر دیا۔چھے سات ہزار نفوس کو ہم لاہور سے نکال لائے۔آخر شہری طور پر یہ کتنا بڑا فائدہ ہے جو ہم نے لاہور کو پہنچا یا۔چاہیے تھا کہ دوسری جماعتیں بھی ہم سے نمونہ لیتیں مگر بجائے اس کے کہ وہ ہماری نقل نہیں قصبات تعمیر کرتے چونکہ وہ یہ کام نہ کر سکے اس لئے انہوں نے ہم پر بغاوت کا الزام لگا دیا اور کہا ر کوہ جو اڑھائی تین میل کا علاقہ ہے اور ہر قسم کے سامانوں سے محروم ہے ملک کے لئے خطر ناک قسم کی سرنگ بن گیا ہے۔یہ غلط اور کمزور ذہنیت کا مظاہرہ تھا جو کیا گیا تعلیم یافتہ طبقہ کو چاہیئے تھا کہ وہ ایسے معترضین کو اس بات کی وجہ سے ملامت کرتا اور کہنا کہ تم کیوں بلا وجہ شک کرتے ہو اور تمہیں دھوکہ دیتے ہو۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے ان لوگوں کو ایک ایسے کام کی توفیق دی جو قوم اور ملک کے لئے باعث صد فخر ہے۔ترقی کرنے والی قومیں ہمیشہ کام کرنے والوں سے حوصلہ پکڑتی ہیں اور ان سے نمونہ لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ ملک اور قوم کے لئے ترقی کی ایک صورت پیدا کی گئی ہے لیکن ان معترضین نے یہ نمونہ دکھا کر اور یہ کہ کر کہ اس قصبہ کی وجہ سے ملک کا امن خطرہ میں پڑ گیا ہے ایک خطر ناک کذب سے کام لیا۔بہر حال ہم سمجھتے ہیں کہ ہم میں زور نہیں تھا، طاقت نہیں تھی ہم بھی ویسے ہی تھے جیسے ہمارے دوسرے مہاجر بھائی ہیں۔ہمار ے سامان بھی کم تھے لیکن اس کے با وجود خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اپنے آپکو دُکھ میں ڈالیں اور یہاں آگر مکان بنائیں اور نہ صرف یہاں مکانات بنائیں بلکہ اپنے چندوں کو بھی قائم رکھیں۔ناظر صاحب اعلیٰ نے ایڈریس میں کہا ہے کہ ہمارے چند سے کم ہو گئے ہیں یہ بات درست نہیں ہمارے چند سے کم نہیں ہوئے بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے برابر بڑھ رہے ہیں۔اگر قادیان کے چندوں کو بلا لیا جائے جہاں دو اڑھائی لاکھ روپیہ کے قریب سالانہ