تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 127
۱۳۰ کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر یہ لوگ اکٹھے نہ رہیں تو بہت سی مشکلات کا سامنا ہو مثلاً اگر ایک نائی بیمار ہو جائے اور اس کا قائمقام وہاں موجود نہ ہو تو لوگوں کو کتنی وقت کا سامنا ہو۔ایک دھوبی کا مسالہ ختم ہو جائے تو وہ اپنے ساتھیوں سے مانگتا ہے۔اگر اس کے قریب دوسرے دھوبی نہ ہوں تو اس کے کام میں روک پیدا ہو جائے۔نیچہ بندی کے سلسلہ میں بھی بعض چیزیں ختم ہو جاتی ہیں تو نیچہ بند اپنے ہمسایوں اور اپنے قریب رہنے والوں سے مانگ لیتے ہیں۔اگر ایک نیچه بند ایک شہر میں رہتا ہو اور دوسرا دوسرے شہر میں تو وقتی ضرورت کے وقت کیا وہ دوسرے شہروں میں جاکر وہاں کے نیچہ بندوں سے وہ چیزیں مانگے گا۔غرض ایک ہی کام کرنے والوں یا ایک ہی قسم کے پیشہ وروں کا اکٹھا رہنا ضروری ہے اور یہ معاشرتی اور اقتصادی حالت کا نتیجہ ہے محب الوطنی کی کمی کا نتیجہ نہیں۔کراچی اور لاہور کے شہروں میں دیکھ لو کیا ایک ہی پیشہ والے لوگ اکٹھے نہیں رہتے۔ہم تو اب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جو لوگ مشرقی پنجاب سے آئے ہیں ان میں سے جن کے آپس میں تعلقات تھے انہیں یہاں اگر الگ الگ قصبات بسانے چاہیئے تھے۔لیکں نے تو ۱۹۴۷ء میں یہاں تک کہا تھا کہ اردو دانوں کی بھی الگ بستی ہونی چاہئیے تاکہ ان کی زبان خراب نہ ہو۔اب اگر میری تجویز کے مطابق اُردو و ان الگ شہر آباد کر لیں تو کیا یہ لوگ کہیں گے کہ ان کا ایسا کرنا حب الوطنی کی کمی کی وجہ سے ہے حالانکہ انہوں نے الگ شہر اس لئے آباد کیا ہوگا تا کہ زبان کی سی قیمتی چیز ضائع نہ ہو حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت میں اُردو زبان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتی۔اُردو دان پنجابیوں میں بس رہے ہیں اور انکی اولادیں پنجابی زبان سیکھ رہی ہیں ہمارے اپنے رشتہ داروں کی یہی حالت ہے۔وہ دہلی میں رہتے تھے تو ان کی زبان ٹکسالی زبان سمجھی جاتی تھی۔ان میں کثرت سے ادیب پائے جاتے تھے۔وہ ماہرین زبان تھے مگر اب وہ ادھر آگئے ہیں اور ان میں دس میں گھرانے لاہور میں بس گئے ہیں۔بعض ! جیل روڈ پر آباد ہیں لبعض شیرانوالہ گیٹ میں ہیں اور بعض میو روڈ پر ہیں یعنی وہ دنش بینس گھرانے بھی لاہور کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔پنجابی ماحول کی وجہ سے ان کی اولادیں پنجابی زبان سیکھ رہی ہیں۔اگر کسی بچے کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے " اناں میرے ڈڈھ وچہ پیٹر ہوندی اسے اور مائیں انہیں پنجابی زبان بولتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتی ہیں اور ہنس کر کہتی