تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 122 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 122

بیرونی مشنوں کی وسعت کا ذکر کر کے بتایا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے تحریک جدید کو دنیا کے کثیر التعداد ملکوں میں اسلام کی خدمت کے لئے مشن قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اس ایڈریس کے بعد عبدالشکور صاحب سو نہ طالب علم جامعتہ المبشرین نے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے مندرجہ ذیل اشعار خوش الحانی کے ساتھ سنائے بہار آئی ہے اب وقت خنداں میں لگے ہیں پھول میرے بوستان میں ملاحت سے عجب اِس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے جہاں میں عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں جہاں ہم ہو گئے یار جہاں میں ہوا مجھے پر وہ ظاہر میرا ہادی فسيحان الذى اخرى الاعادي اس کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کارکنان صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا جس میں ہجرت کے غیر معمولی دھکنے کے باوجود سلسلہ کے کام میں غیر معمولی وسعت کا ذکر کر کے بتایا کہ یہعظیم الشان عمارت جس کے بنانے کی ہمیں ربوہ میں توفیق ملی ہے۔اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے علیم و قدیر خدا کا یہ منشا ہے کہ جماعت کے وسیع اور عالمگیر مقصد کے پیش نظر ہمیں ہر حال میں اپنے کاموں اور اپنے سامانوں کو وسیع کرتے چلے جانا چاہیئے حتی کہ وہ الہامی بشارت اپنی تکمیل کو پہنچ جائے کہ بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد اس ابتدائی پر وگرام کے بعد حضرت المصلح الموعود (رضی اللہ عنہ نے ایک پر معارف تقریر فرمائی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔فرمایا :- بایوسیاں اور ناکامیاں ان لوگوں کو زیادہ شاق گزرتی اور انہیں زیادہ صدمہ پہنچانے والی ہوتی ہیں جو کامیابی کے زمانہ میں یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں کبھی مایوسی نہیں آئے گی۔اس وجہ