تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 112
" ہے اے جمعیت العلمائے ہند سے خصوصی رابطہ رکھنے والے ایک صاحب علم اور صاحب قلم نے ہفت روزہ صدق جدید لکھنو مورخہ 4 اگست ۱۹۶۵ء صث میں شاہ عبدالعزیز ابن سعود کے زمانے کا یہ واقعہ بایں الفاظ لکھا کہ " محجرہ نشین مولویوں نے مرحوم سے کہا کہ چونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں اس لئے انہیں حجاز مقدس سے نکال دیا جائے۔مرحوم نے مولوی صاحبان سے پوچھا کہ قادیانی حج کو اسلام کا مرکن اور اس کو فرض سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ اس پر مرحوم نے فرمایا کہ جو شخص حج کی فرضیت کا قائل ہے اور اُسے اسلام کا اہم رکن سمجھتا ہے اُسے حج سے روکنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔یہ واقعہ ہم نے مرحوم کی زندگی میں خود بعض مولویوں کی زبانی سنا تھا ممکن ہے کہ بعض اخبارات میں بھی شائع ہوا ہویا ستید نا حضرت خلیفة المسح الثاني المصلح الموعود کو دنیائے اسلام کی اس عظیم شخصیت کے المناک انتقال پر بہت صدمہ ہوا اور آپ نے اور نومبر ۱۹۵۳ء کو اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے سعودی عرب کے نئے سلطان ہن میجی ٹی شاہ سعود بن عبد العزیز کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہارہ فرمایا اور دعا کی اللہ تعالیٰ اُن کی رہنمائی کرے۔اس سلسلہ میں حضور نے ربوہ سے جو برقیہ ارسال فرمایا اُس کا ترجمہ درج ذیل ہے :- ہر میجسٹی شاہ سعودی عرب ریاض ! یں اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کے نامور والد کی وفات پر آپ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے محبوب و مقدس ملک عرب کو امن اور ترقی سے نواز سے اور تمام امور میں آپ کی رہنمائی فرمائے اور آپ کے کندھوں پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے اُسے برداشت کرنے میں آپ کی مڈ کرے۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔مرنه البشیر الدین محمود احمد امام جماعت الحدیده۔ربو و مورخه از نومبر ۶۱۹۵۳ مجلہ اسلامیہ البشرى" حیفا فلسطین نے اپنی اشاعت ربیع الثانی ۱۳۷۳ ھ مطابق دسمبر ۶۱۹۵۳ له روزنامه الفضل قادیان ۲۴ جولائی ۶۱۹۳۵ صث کالم ۴۰۳ : کے روزنامه المصلح کراچی ۱۸ نومبر ۶۱۹۵۳/ ۱۸ نبوت ۱۳۳۲ ش صل به