تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 104
۹۹ نے یہ تباہی خود اپنے ہاتھوں مول لی تھی۔بار بڈ (MORBID) کے لحاظ سے یہ تباہی اس لئے واقع ہوئی کہ جو ترقیات انہیں ملیں وہ اسلام کی خاطر ملی تھیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت ملی تھیں، ان کی ذاتی کمائی نہیں تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے اور مکہ والوں کی ایسی حالت تھی کہ لوگوں میں انہیں کوئی عزت حاصل نہیں تھی لوگ صرف مجاور سمجھ کر ادب کیا کرتے تھے اور جب وہ غیر قوموں میں جاتے تھے تو وہ بھی ان کی مجاور یا زیادہ سے زیادہ تا جو سمجھ کر عزت کرتی تھیں وہ انہیں کوئی حکومت قرار نہیں دیتی تھیں اور پھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں ان سے جبرا ٹیکس وصول کرنا جائز سمجھتی تھیں۔جیسے یمن کے بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا جس کا قرآن کریم نے اصحاب فیل کے نام سے ذکر کیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبحوث ہوئے تو تیرہ سال تک آپ مکہ میں رہے اس عرصہ میں چند سو آدمی آپ پر ایمان لائے۔تیرہ سال کے بعد آپؐ نے ہجرت کی اور ہجرت کے آٹھویں سال سارا عرب ایک نظام کے ماتحت آگیا اور اس کے بعد اسے ایسی طاقت اور قوت حاصل ہو گئی کہ اس سے بڑی سے بڑی حکومتیں ڈرنے لگیں۔اس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دوبڑے حصوں میں منقسم تھی اول رومی سلطنت دوم ایرانی سلطنت۔رومی سلطنت کے ماتحت مشرقی یوروپ ، لڑکی، ایسے سینیا ، یونان، مصر، شام اور اناطولیہ تھا اور ایرانی سلطنت کے ماتحت عراق، ایران رشین ٹری ٹوری کے بہت سے علاقے ، افغانستان، ہندوستان کے بعض علاقے اور چین کے بعض علاقے تھے۔اس وقت یہی دو بڑی حکومتیں تھیں۔ان کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد سارا عرب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعه ہو گیا۔اس کے بعد جب سرحدوں پر عیسائی قبائل نے شرارت کی تو پہلے آپ خود وہاں تشریف لے گئے اس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے فتنہ ٹل گیا لیکن تھوڑے عرصہ بعد قبائل نے پھر شرارت شروع کی تو آپ نے ان کی سرکوبی کے لئے شکر بھجوایا۔اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوں کو معاہدے سے تابع کیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد اڑھائی سال کے رصہ میں سارا عرب اسلامی حکومت کے ماتحت آگیا بلکہ یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے