تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 103
۹۸ چاہو گے تو یکی بھی اسے قائم رکھوں گا گویا اس نے تمہارے منہ سے کھلوانا ہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔اب اگر تم اپنا منہ بند کر لو یا خلافت کے انتخاب میں اہمیت مد نظر نہ رکھو۔مثلا تم ایسے شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لو جو خلافت کے قابل نہیں تو تم یقیناً اس نعمت کو کھو بیٹھو گے۔مجھے اس طرف زیادہ تحریک اس وجہ سے ہوئی کہ آج رات دو بجے کے قریب یکی نے ایک نہ ڈیا میں دیکھا کہ پنسل کے لکھے ہوئے کچھ نوٹ ہیں جو کسی مصنف یا مورخ کے ہیں اور انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں۔پنیسیل بھی COPYING یا BLUE رنگ کی ہے۔نوٹ صاف طور پر نہیں پڑھے جاتے اور جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹوں میں یہ بحث کی گئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان اتنی جلدی کیوں خراب ہو گئے؟ با وجو د اس کے کہ خدا تعالیٰ کے عظیم الشان احسانات ان پر تھے۔اعلیٰ تمدن اور بہترین اقتصادی تعلیم انہیں دی گئی تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا پھر بھی وہ گر گئے اور ان کی حالت خراب ہو گئی۔یہ نوٹ انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو انگریزی لکھی ہوئی تھی وہ بائیں طرف سے دائیں طرف کو نہیں لکھی ہوئی تھی بلکہ دائیں طرف سے بائیں طرف کو لکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی میں اسے پڑھ رہا تھا گو وہ خراب سی لکھی ہوئی تھی اور الفاظ واضح نہیں تھے ہر حال کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا تھا۔اس میں سے ایک فقرہ کے الفاظ قریباً یہ تھے کہ REASONS TWO WERE THERE FOR IT۔THERE TEMPERAMENT, BECOMING (1) MORBID AND ANARCHICAL۔(2) یہ فقرہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر کیوں تباہی آئی ؟ اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ خرابی جو مسلمانوں میں پیدا ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی طبائع میں دو قسم کی خرابیاں ہو گئی تھیں ایک یہ کہ وہ مار بڈ (MORBID) ہو گئے تھے یعنی ان نیچرل (SUNNATURAL اور ناخوشگوار ہو گئے تھے اور دوسرے ان کی ٹینڈ نسینز (PENDENCES) انار کیکل ( ANARCHICAL) ہو گئی تھیں۔میں نے سوچا کہ واقعہ میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں مسلمانوں