تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 101
۹۶ " یکی باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے " (یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۷۱۶) ر اس میں حضرت مسیح علیہ السلام نے لوگوں کو اسی نکتہ کی طرف توجہ دلائی تھی کہ چونکہ ہر انسان کے لئے موت مقدر ہے اس لئے یکیں بھی تم سے ایک دن بعد ا ہو جاؤں گا لیکن اگر تم چاہو تو تم ابد تک زندہ رہ سکتے ہو۔انسان اگر چاہے بھی تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا لیکن قو میں اگر چاہیں تو زندہ رہ سکتی ہیں اور اگر وہ زندہ نہ رہنا چاہیں تو مر جاتی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا کہ : " تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن یکں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی یا لے اس جگہ ہمیشہ کے یہی معنے ہیں کہ جب تک تم چاہو گے تم زندہ رہ سکو گے لیکن اگر تم سارے مل کر بھی چاہتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ رہتے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ہاں اگر تم یہ بچا ہو کہ قدرت ثانیہ تم میں زندہ رہے تو وہ زندہ رہ سکتی ہے۔قدرت ثانیہ کے دو مظاہر ہیں اول تائید الہی اور دوم خلافت۔اور اگر قوم چاہیے اور اپنے آپ کو مستحق بنائے تو تائید الہی بھی اس کے شامل حال رہ سکتی ہے اور خلافت بھی اس میں زندہ رہ سکتی ہے۔خرابیاں ہمیشہ ذہنیت کے خراب ہونے سے پیدا ہوتی ہیں ذہنیت درست رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو چھوڑ دے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُفَ بِرُوا مَا بِاَنفُهم من یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کے ساتھ اپنے سلوک میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک وہ خود اپنے دلوں میں خرابی نہ پیدا کر لے۔یہ چیز ایسی ہے جسے شخص سمجھ سکتا ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس بات کو نہیں سمجھ سکتا۔کوئی جاہل " الوصیت " طبع اول ص :: سے سورہ رعد : ۱۲