تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 92
A4 " حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے مہمانوں کی خدمت کے لئے میری جان بھی حاضر ہے۔کیا تم سمجھتی ہو کہ اپنی اس بیماری میں لیکن مہمانوں کی کوئی خدمت سر انجام دے سکتی ہوں ؟ " لے تحریک جدید کے مالی جہاد میں آخر دم تک شامل رہیں اور صحابیہ اور موصیبہ ہونے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشون و رویا کی نعمتوں سے بھی نوازا تھا یہ آپ شادی کے بعد قریباً نصف صدی تک زندہ رہیں۔اس عرصہ میں آپ نے سلسلہ احمدیہ کی جو شاندار خدمات سر انجام دیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی فراست اور توبہ روحانی اور آپکی حقانیت کا کھلا اور واضح نشان ہے اور خدائی انتخاب کے صحیح ثابت ہونے کا واقعاتی ثبوت ہے۔آپ کی وفات در ستمبر ۱۹۵۳ء کو ہوئی۔اس موقع پر سلسلہ احمدیہ کے آرگن روز نامہ المصطلح " کراچی نے اپنی اشاعت استمبر ۱۹۵۳ء کے صفحہ اول پر آپ کی وفات کی خبر دیتے ہوئے حسب ذیل نوٹ شائع کیا۔بیگم صاحبہ حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ۔۔۔۔ایک نہایت ہی قیمتی ، خلق اللہ کے لئے نفع رساں اور خدمت دین کا درد رکھنے والی ہستی تھیں اور اس خیال سے کہ احمدی مستورات کی دینی اعلمی اور اخلاقی اصلاح اور ترقی کے لئے وہ اپنی تمام عمر ضایت نمایاں رنگ ہیں ا کوشاں رہیں ان کی ہم سے جدائی کوئی انفرادی حادثہ نہیں بلکہ بجا طور پر ایک قومی اور جماعتی نقصان ہے۔ہم یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ جماعت کے لئے درد منکر اور خیر خواہی کے جذبات جس طرح حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل صافی میں موجزن تھے اور جن کی بناء پر وہ اپنی وفات کے آخری لمحوں تک خدمت دین میں مصروف رہے اسی ܀ که روزنامه المصلح کراچی مورخه ۱۰ تبوک ۱۳۳۲اهش / ار ستمبر ۱۹۵۳ء ص : سے مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو (1) تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم ص۳۵ تا ص ۳۵ مرتبه امنه الطیف صاحبہ سیکرٹری شعبہ اشاعت لجنہ اماء الله مرکز یہ زیر نگرانی حضرت سیده مریم صدیقہ صاحبہ صدر >> لجنہ اماء الله مرکز یہ ) اشاعت جنوری ۱۹۷۲ء (۲) سیرت داؤد صلا (مرتبہ طلباء جامعہ احمدیہ) ناشر الجمعية العلمية بالجامعة الاحمدیہ میر بوه تاریخ ۰۶۱۹۷۴