تاریخ احمدیت (جلد 16)

by Other Authors

Page 90 of 659

تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 90

۸۵ خدام کا سلسلہ ہند و پنجاب سے نکل کر عرب تک پہنچا ہوا ہے ان تمام امور کو مد نظر رکھ کہ یہ تعلق نہایت ہی مسعود اور مبارک تعلق ہے اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔اسی دن بعد نکاح دفتر الحکم کی طرف سے حسب معمول مندرجہ ذیل تہنیت نامہ شائع کیا گیا جو گویا گل قوم کی طرف سے مبارکبا د تھی اور قوم کے نمائندہ نے پیش کی۔حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنے ماموں میر محمد الحق صاحب کی اس تقریب پر چند شعر بھی فی البدیہ کہ دیئے۔بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) ملازم تھے لیکن ایک واقعہ سے متاثر ہو کر بلازمت ترک کر دی اور حضرت مجدد سے فیضیاب ہوئے اور پھر ایک عالم کو سیراب کیا۔کہتے ہیں کہ آپ کی خانقاہ میں ایک ہزار سے زیادہ طلباء جمع رہتے تھے جن کو کھانا آپ کے لنگر سے ملتا تھا۔آپ کے خلفاء کی تعداد ایک سو اور مریدین کی تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے جن میں سے ایک بزرگ حافظ سید عبد اللہ اکبر آبادی تھے جن کے مرید حضرت شاہ ولی اللہ کے والد اور چھا یعنی شیخ عبدالرحیم اور شیخ محمد رضا ہوئے جن سے خود حضرت شاہ صاحب نے فیض حاصل کیا۔حضرت شاہ صاحب نے انفاس العارفین میں حضرت آدم بنوری کے واقعات لکھے ہیں اور ان کی بہت تعریف کی ہے۔آپ کے خلاف سعد اللہ خان وزیر نے شاہجہان بادشاہ سے شکایت کی۔بادشاہ نے آپ کو مکہ معظمہ جانے کا حکم دیا۔آپ کو پہلے ہی وہاں جانے کا شوق تھا چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے۔روایت ہے کہ جب آپ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور فریضہ حج ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں روضہ اقدس پر حاضر ہوئے تو مرقد اطر سے دونوں دست مبارک ظاہر ہوئے اور حضرت ممدوح نے یہ ہزار شوق بڑھ کر مصافحہ کیا اور بوسہ دیا اور جب آپ نے مدینہ منورہ سے مراجعت کا قصد فرمایا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے بشارت ہوئی کہ یا ولدی انت جواری۔چنانچہ آپ نے وہیں قیام فرمایا اور ۱۰۵۲ھ میں وفات پائی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضہ مبارک کے قریب مدفون ہوئے ( رود کوثر از شیخ محمد اکرام ایم۔اسے صفحہ ۲۸۵ - ۲۸۷ اشاعت سوم ۱۹۵۸ء شائع کردہ فیروز سنز لا ہورا و صوفیائے نقشبند از سید امین الدین صفحه ۲۶۶ طبع اول ۴۱۹۷۳ شائع کردہ مقبول اکیڈمی، لاہور) ہ یہ اشعار کلام محمد " میں شائع شدہ ہیں :