تاریخ احمدیت (جلد 16) — Page 377
۳۵۹ اس کے بعد انصار اللہ مقرر ہیں تاکہ جو خدام میں سے نکل کر ان میں شامل ہو وہ اس کی حفاظت کریں۔گویا تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کوئی ٹور کی حفاظت کرتا ہے۔اور انصار اللہ کی مثالی ایسی ہے جیسے کوئی بڑے پھیل کی نگہداشت کرتا ہے جہاں تک خدام الاحمدیہ کا سوال ہے وہ بہت چھوٹی بنیاد سے اکٹھے اور بڑھ گئے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے اپنی تنظیم نہیں کی، حالانکہ ان کی ترقی کے امکانات زیادہ اور ان کے خطرات کم تھے۔لانچیں اور حرمیں زیادہ تر نوجوانی میں پیدا ہوتی ہیں۔بڑھاپے میں انسانی کیریکٹر راسخ ہو جاتا ہے اور اس کا قدم آسانی سے ڈگمگا نہیں سکتا۔بہر حال خدام نے خوش کن ترقی کی ہے۔مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خدام الاحمدیہ کا دفتر اپنے پاس ایک چارٹ رکھے جس میں یہ دکھایا جائے کہ مجلس کی اس وقت ایک کتنی انجمنیں ہیں کسی کسی جگہ اس کی شاخیں قائم ہیں اور دوران سال ان انجمنوں نے کتنی ترقی کی ہے۔اگر اس قسم کا ایک چارٹ موجود تو اس کے دیکھتے ہی فوراً پتہ لگ سکتا ہے کہ نعدام الاحمدیہ تھر تی کر رہے یا گر رہے ہیں۔میں نے دیکھا ہے صدر انجمن احمدیہ کی شاخیں ہمیشہ چھ اور سات سو کے درمیان میکر کھاتی رہتی ہیں اور اس تعداد میں کبھی اضافہ نہیں ہوا۔اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ کوئی ایسا محکمہ نہیں تھا جو اس امر کی نگرانی کرتا اور دیکھتا کہ انجمنیں کیوں ترقی نہیں کر ر ہیں پس ہر سال ایک چارٹ تیار کیا جایا کرے اور پھر اس چارٹ پر شورتی میں بحث ہو کہ فلاں جگہ کیوں کسی آگئی ہے۔یا فلاں جگہ جو زیادتی ہوئی ہے وہ کافی نہیں اس سے زیادہ تعداد ہونی چاہیئے تھی۔یا اگر پچھلے سال خدام الاحمدیہ کے ایک ہزار ممبر تھے تو اس سال بارہ سو کیوں نہیں ہوئے ؟ اس وقت دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور احمد کی بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہے ہیں۔باہر سے آنے والوں کے ذریعہ سے بھی اور نسل کی ترقی کے ذریعہ سے بھی۔پس خدام الاحمدیہ کی تعداد ہر سال پچھلے سال سے زیادہ ہونی چاہیئے۔اگر یہ پارٹ سالانہ اجتماع پر لگا ہوا ہو تو باہر سے آنے والے خدام کو بھی اس طرف توجہ ہو سکتی ہے۔اس کے بعد جب بیرونی مجالس میں توجہ پیدا ہو تو اس قسم کا چارٹ چھپوا دیا جائے۔اس چارٹ میں مختلف خانے بنے ہوئے ہوں جن میں مجالس کی ابتداء سے لے کر موجودہ وقت تک کے تمام سالوں کی درجہ بدرجہ ترقی یا تنزل کا ذکر ہو۔اگر تم ایسا کرو تو یقیناً تم کسی جگہ ٹھہرو گے نہیں۔یورپ اور امریکہ کے لوگ ان باتوں میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔