تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 86 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 86

نے ہمیں دھوکہ دیا۔کبھی وہ احمدیوں کے حق میں بیان دیتا رہا اور کبھی ہمارے حق میں بیان دیتا رہا اور حقیقتاً وہ سیاست میں خود غرضی کے گھوڑے پر سوار اپنا کوئی کام نکالنا چاہتا تھا۔کوئی کہتا اس نے روٹی میں سے بہت سا روپیہ نکالا اور مولویوں میں تقسیم کیا۔کوئی کہتا حکومت کے محاصل میں سے ایک قسم حاصل کی اور دو لاکھ اپنی گرہ سے خرچ کیا اور لوگوں میں تقسیم کیا۔احمدیوں کو صرت نشانہ بنایا گیا اصل غز من اس کی سنٹرل حکومت کے ساتھ محرم تھی۔غرضیکہ کئی قسم کی باتیں جیل میں سنتے تھے را ولپنڈی والے کسی ایک خفیہ سازش کا نام لیتے تھے جو ہم باوجود کوشش کے معلوم نذکر سکتے کہ وہ کیا سازش تھی۔کیونکہ وہ لوگ معلوم کر چکے تھے کہ ہم تین چار وہاں احمد می موجود ہیں ہم میں سے کسی کو دیکھ کہ وہ خاموش ہو جاتے تھے۔اور یہ الفاظ تو ہر وقت ہر سیاسی قیدی کی نہ بان پر ہوتے تھے کہ حکومت ہمارے ساتھ ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہماری تحریک کامیاب نہ ہو۔بلکہ متفقہ طور پر وہاں کے لوگوں کی یہ صدا ہوتی تھی کہ اگر یہ تحریک فیل ہو گئی تو ہم کہہ دیں گے کہ خدا ہے ہی نہیں۔یعنی ان لوگوں کو اپنی تحریک کی کامیابی کی یہاں تک اُمید تھی کہ ان کے ذہن اس طرف جاتے ہی نہیں تھے کہ یہ تحریک فیل ہو سکتی ہے۔چنانچہ میں دن یہ اعلان ہوا کہ خواجہ صاحب کی وزارت مستفعی ہو گئی ہے تو سب معاندین نے خوشی منائی کہ یہ چال صرف ظفر اللہ خاں کو وزارت سے علیحدہ کرنے کی چلی گئی ہے۔پولیس کی نسبت تو ہر شخص حیل کا کہا تھا کہ پولیس مکمل طور پر ہمارے ساتھ ہے۔ہمارے گاؤں ملیا نوالا کے ارد گر د سب دیہات میں گرفتاریاں ہوئیں مگر ملیانوالا میں کوئی گرفتار می سوائے میرے نہیں ہوئی کیونکہ یہاں ایک احمدی کو پھاننے کے لیے نمبر وار اور تھانیدار کی سازش تھی۔حالانکہ جتنی شرارت بدمعاشوں نے ملیا نوالا ہیں کی کسی دیگر گاؤں میں شاید ہی ہوئی ہو۔ہمارے گھروں پر پتھر برسائے گئے اور پھر مشہور کر دیا جاتا کہ احمدی عورتیں جلوس پر پتھر برساتی ہیں۔ہم میں سے چھے کس کو نہ یہ دستی تشدد کر کے احمدیت سے محرف کیا گیا اور زبردستی ان کے ہا تھوں میں جھنڈا دیا گیا۔اور یہی حال ہمارے ارد گرد کے دیہات میں ہوا۔جو احمدیت سے انکار نہیں کرتا تھا اس کو قتل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور گھر بار کو آگ لگانے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں اور یہ سے ہوا تک نہ کوئی قانون تھا اور نہ کوئی حکومت۔تحصیلدار اور منھا بیدار کے چپڑاسی اور سپاہی نمیڑ وں کو بلا کرے جاتے تھے اور پھر ہدایات حاصل کر کے جنتے نکالتے تھے۔