تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 85
کہ میں رسول پاک کو گالیاں نکالتا ہوں اور رسول پاک کی ہر وقت تو نہیں کرتا ہوں۔لوگوں کو اشتقال دلاتا ہوں وغیرہ۔میرے خلاف چوٹی کے گواہ وہی نمبر دار۔۔۔۔۔۔تھا اور باقی گاؤں کے سات کمی تھے یعنی دو جلاہ۔دو تر کھان۔ایک موچی۔ایک ماں اوریہ ایک دھوبی۔حالانکہ گاؤں میں گو ہ۔راجپوت آرائیں آوران اور چیہ زمیندار تو میں آباد تھیں۔چونکہ گاؤں کے کمی اس نمبردار سے سخت خائف تھے اس لیے وہی گواہ اس کے کہنے پر گواہی کے لیے تیار ہوئے اور وہ بھی میرے رہا ہونے پر کہہ رہے تھے کہ نمبر دارہ نے ہمیں گرفتار کرا دینے کی دھمکی دی ہے اور راؤ نے بھی ڈرایا دھمکایا ہے ورنہ ہم ہرگز گواہی دینا نہیں چاہتے۔چنانچہ میرے خلاف صرف دو گواہ ایک نمبردار اور دوسرا۔۔۔۔۔کلاہ گزر سے اور دونوں کے بیانات متضاد سے متضاد تر ہیں اور عدالت نے حکومت کی نئی پالیسی کے ماتحت مجھ سے ایک تحریر لی اور رہا کہ دیا اب بھی سارا گاؤں اس نمبر دار کے خلاف ہے مگر نمبردار بدستور میرے خلاف اپنی کارروائیوں میں لگا ہوا ہے۔چونڈہ کا ایک مولوی جو میونسپل کمشنر بھی تھا ہماری ساتھ والی کو مٹھڑی میں بند تھا اس نے بتا یا کہ تھانہ پھلوارہ کا تھانیدار۔۔۔۔۔میرے بالمقابل سیج بناکر احمدیوں اور حکومت کے خلاف تقریریں کرتا تھا اور اب وہی تھانیدار عدالت میں میرے خلاف گواہیاں دلوا رہا ہے اگر میں قید ہو گیا تو تھانیدار مذکور کو بھی ساتھ ہی لوں گا اور میں گواہ متھانیدار کے خلاف گزاروں گا کہ یہ بھی حکومت کے خلاف اور احمدیوں کے خلاف مجھ سے کئی گنا زیادہ تقریریں کرتا تھا۔اس طرح شکر گڑھ کا ایک مولوی۔۔۔۔۔۔جو یک چشم تھا کہنے لگا کہ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے دو احمدیوں کی جان بچائی اور مقامی تعلیدار نہیں چاہتا تھا کہ ہمیں احمدیوں کی امداد کروں اور اس کے عوض میرا اس نے چالان کر دیا۔جیل میں سیالکوٹ کے مولوی۔۔۔۔۔۔۔۔تھے ان کے تہمنشیں ہمیں بتاتے کہ مولویوں نے قریبا ۸۰۰۰۰۰ روپیه دولتانہ صاحب سے لیا ہے۔اور یہ روپیہ چیدہ چیدہ مولومی کھا گئے ہیں کاندھلوی صاحب نے کہا کہ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ یہ سب سیاست کی خاطر کیا جارہا ہے تو ہمیں ہر گز اس تحریک میں حصہ نہ لیتا۔جیل میں یہ عام مشہور تھا کہ دولتانہ صاحب نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے پانی کی طرح روپیہ بہایا ہے۔بہت سے مولوی ہمارے ساتھ جب بھی گفتگو کرتے تو یہی کہتے کہ بھائی احمدیوں کے ساتھ نہیں کرنا پر خاش نہیں ہم تو صرف گورنمنٹ کے ساتھ ٹکر لینا چاہتے تھے اور اس میں بھی دولتانہ صاحب