تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 84
نمبر دار اور سپاہی دوسرے لوگوں کے بہکانے پر ہم پر سختی کا سلوک کرتے اور 10 دن تک ہم چاروں احمدیوں کو سنگین کو ٹھریوں میں اکیلے اکیلے بند رکھا گیا اور سخت واچ کی جاتی کہ ہم احمدی کسی دوسرے احمدی سے بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔میر صاحب کے آنے پر ہم احمدیوں کو اکٹھا ایک کو ٹھڑی میں کر دیا گیا۔ہم لکی نمبرس میں کو ٹھڑی نمبر 10 میں بند تھے کہ انہی دنوں راولپنڈی سے قریباً ہم اسیاسی قیدی تبدیل ہو کر آئے۔ان کا سر غنہ ایک مولوی۔۔۔۔۔۔۔غالبا راجہ بازار را ولپنڈی کا تھا یہ مولوی فاضل اور شاید منشی فاضل بھی تھا۔ایک دن جبکہ یہ سب لوگ اکٹھے کھڑے باتیں کر رہے تھے اور ان کو معلوم نہیں تھا کہ کوئی احمدی بھی اس تحریک میں گرفتار ہو کہ جیل میں آسکتا ہے۔۔۔۔کہہ رہا تھا کہ اب تو بڑی بھی ہمارے ساتھ تھی مگر ہم سے کچھ نہ ہو سکا۔چنانچہ جب ہمارا جتھہ گر فتاری کے لیے نکلا تو فوجی سپاہیوں کی طرف سے ہمیں پیغام ملا کہ جب فوج کا دستہ تم کو روکنے کے لیے آگے بڑھے تو تم نے ہم پر حملہ کر دینا اور رائفلوں پر ہاتھ ڈال دینا۔ہم رائفلیں چھوڑ کر بھاگ جاویں گے اور پھر تم نے رائفلوں کو جس طرح چاہو استعمال کر لینا۔اس بات کی تصدیق راولپنڈی کے دوسرے لوگوں سے بھی ہوئی۔مولوی صاحب نے کہا کہ افسوس ہمارے آدمیوں نے کچھ منہ کیا۔ایک رات ایک ملنگ کو جو قاتل منخفا ہماری کو ٹھڑی میں بند کر دیا۔وہ ۴٫۳ دن ہمارے ساتھ رہا۔ایک دن ایک مولوی نے کہا کہ ملنگا تم نے آدمی قتل کرکے خدا کا گناہ کیا تو اس نے کہا کہ علی کا دشمن کا فر مقامیں نے مار دیا۔اس مولوی نے کہا کہ اگر تم کو کوئی مرزائی مل جاوے تو پھر کہنے لگاکہ مرزائی۔مرزائی کو تو چن چن کر مارنا چاہیے اسی مولوی نے کہا کہ تم تو ۴٫۳ دن سے مرزائیوں میں رہتے اور سوتے ہو۔کہنے لگا کہ نہیں یہ تو مسلمین ہیں۔نمازیں پڑھتے تہجد پڑھتے ہر وقت عبادت کرتے ہیں۔یہ کس طرح مرزائی ہو سکتے ہیں یہ تو بڑے پیکے مسلمین ہیں۔اب مجھے پورا مہینہ جیل میں ہو گیا کئی لوگ ضمانت پر جیل سے جاچکے تھے مگر مجھے معلوم ہوا کہ ڈسکہ کا تھا بیدار میرے ساتھ خاص دشمنی کی وجہ سے ریمانڈ پر ریمانڈ لیتا جارہا ہے اور چالان عدالت میں پیش نہیں کرتا یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ عرصہ جیل میں اسی طرح رہ جاؤں چنانچہ بعد مشکل ۲۰ مارچ کو میری ضمانت ہوئی اگر چہ اس وقت بھی ایس آئی میرا ریمانڈ لے چکا تھا باہر آ کہ مجھے معلوم ہوا کہ مجھ پر جو الزام لگائے گئے ہیں ان میں بڑا الزام یہ تھا