تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 81 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 81

پولیس نہ بھیجتا تو تم سب قتل ہو جاتے ہیں نے تم کو قتل سے بچا دیا ہے اور آج پھر بہت سے دیہات تم پر حملہ آور ہورہے ہیں۔چنانچہ اسی وقت پھر انے ایس آئی عبد العزیز صاحب کو حکم دیا کہ کل 4 کانسٹیبل تھے آج ہ لے کہ جاؤ۔4 رائفلوں والے اور ۲ ہتھکڑیاں والے اور مجھے کہا کہ تم شام سے پہلے گاؤں میں نہ جانا۔چنانچہ ان کی ہدایت کے ماتحت ہیں ڈسکہ میں ہی ٹھہر گیا اور پولیس گاؤں میں چلی گئی۔میری غیر حاضری میں پولیس نے پھر احمدیوں سے ۲ مرغ آدھ سیر گھی اور سہ روپیہ کا یہ طلب کیا۔۔۔احمدیوں نے معذوری ظاہر کی سپاہیوں نے احمدیوں کو ڈانٹا کہ اب تم قتل بھی ہو جاؤ گے تو ہم تمہاری امداد نہیں کریں گے اور آئندہ بھی تمہاری امداد کو تمہارے گاؤں میں نہیں آئیں گے۔گاؤں کے نمبردار نے باہر کے حملہ آوروں کو نو را اطلاع دی کہ پولیس آگئی ہے۔چنانچہ وہ لوگ ہمارے گاؤں پر حملہ آور ہونے کی بجائے میتر انوالی کی طرف چلے گئے۔اے ایس آئی عبد العزیز صاحب نے اس بون بھی بڑی شرافت کا مظاہرہ کیا۔گاؤں کے لوگوں اور نمبردار کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کی کہ خبردار اگر تم نے احمدیوں کو کوئی گزند پہنچایا۔میں جب ڈسکہ سے آیا تو پولیس جا چکی تھی اور نمبردار گاؤں کے لوگوں کو اکٹھا کر رہا تھا۔چنانچہ عصر کے وقت سے لے کر عشاہ کے وقت تک میرے گھر کے سامنے سیاپا اور بد معاشی ہوتی نہ ہی اس ہجوم کا سرغنہ وہی نمبر دارد۔۔۔۔۔۔اور اس کا لڑکا۔۔۔۔۔۔تھے اس دن ہم اپنی نمازیں بھی ادا نہ کر سکے۔رات مجھے اطلاع ملی کہ نمبر دار مذکور مجھے قتل کرانے کی سازش کر رہا ہے۔حتی کہ قاتل بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔اور راستہ ہماری چھنتوں پر سے ہو کر ہمارے صحن میں کودنے کا بنا یا گیا ہے۔۔۔۔۔میں بندوق لے کر ساری رات دکان سے بند کر کے بیٹھا رہا ۱۲ مارچ کو پھر نمبر دار نے گاؤں کے لوگوں کو تحصیلدار اور تھانیدار کا حکم سنا سنا کہ گھروں سے نکالا۔باہر کے دبیات کو بھی پیغام بھیجا مگر اس سے باہر والے تو نہ آئے مگر گاؤں کے اوباشوں نے نمبر دار کی قیادت میں میرے گھر یہ حملہ کر دیا۔اور صبح سے سے شام تک سخنت گندے الفاظ استعمال کرتے اور بھنگڑا ڈالتے رہے۔اس دن مجھے اطلاع ملی کہیں بار با خانہ کو بھی نہ سکوں ور نہ مجھے لوہاروں کی دکانوں کے سامنے قتل کر دیا جارے گا۔چونکہ نمبر دار کی دشمنی میرے ساتھ حد سے زیادہ تھی کیونکہ پنچائت کے انتخاب میں وہ میرے مقابلہ میں ہار چکا تھا۔اور با وجود کئی سفارشوں کے بھی کامیاب نہیں ہوا تھا اس لیے نمبردار کی دشمنی صرف میرے ہی گھر تک محدود تھی۔میں 9 مارچ