تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 79
و۔متصل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ رہائش رکھتا ہوں گزشتہ بدامنی کے ایام میں ہمارے ارد گرد تو بہت کچھ گریڈ پر تھی مگر ہمارے گاؤں ملیا نوالا میں مورخہ ۸/۳/۵۳ تک با لکل امن متھا مورخه ۹/۳/۵۳ کو اچانک معلوم ہوا کہ باہر کا ایک متفقہ احمدیوں کے گھروں پر تمہارے گاؤں پر حملہ آور ہو رہا ہے چونکہ ہمیں حضرت خلیفہ ثانی کی ہدایات مل چکی تھیں کہ گھر نہ چھوڑے جائیں ہم دروازے بند کر کے بیٹھ گئے جتھہ آیا جو عموما موضع بمبانوالہ کے گاؤں کے اوباش لوگوں پر مشتمل تھا۔اس حقہ کی را اہتمائی دیاں کا مولومی۔۔۔۔۔۔۔۔کر رہا تھا اور دیگر مولوی اس کی اقتدا میں تھے ہمارے گاؤں کے اشرارہ بھی ساتھ شامل ہو گئے اور خاص کہ میرے گھر کے سامنے انہوں خوب سیاپا گیا۔مغلظ اور گند سے بھری ہوئی گالیاں ہمارے امام کو دی گئیں اور ہماری بہو بیٹیوں کے نام سے ہے کہ گند اچھالا گیا ۱۰/۳/۵۳ کو نہیں معلوم ہو اکہ گاؤں کا نمبر دار۔۔۔۔۔۔جو سابقہ گاؤں گہور کلا تھانہ کا مہنوں واں ضلع گورداسپور کا رہنے والا ہے۔اور اس طرف ایک کافی عرصہ نمبر 1 میں رھا اور اس کا عموما کام عورتیں اغوا کرنا تھا اور یہاں احمدیوں کا جانی دشمن تھا۔اردگرد بدمعاشوں کو سما ہے گھروں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے رہا تھا۔گاؤں میں بھی اس نے خوب طور پر خفیہ ہدایات جاری کیں کہ جیب باہر کا جمعہ احمدیوں پر حملہ آور ہو تو سارا گاؤں ان کا ساتھ دے اور وہ یہ کام ڈسکہ کے تحصیلیدار۔۔۔۔۔۔اور تھانہ دار۔۔۔۔۔۔کی ہدایات کے حوالہ سے ترتیب دے رہا تھا۔مقامی تحصیل دار اور تھانہ دار کی امداد ان لوگوں کو ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی مگر اس کا ثبوت کچھ تو اس دن پولیس کی آمد کے بعد کچھ میری گرفتاری کے بعد جیل میں ملا۔۱۰/۱۳ کو ارد گرد کے دیہات بمبانوالہ - جند و ساہی۔کوٹ جنڈو گوجرہ کے جتھے ہم پر حملہ آور ہوئے اور ہمارے گاؤں نے ان کی پوری امداد کی مین اسی وقت ڈسکہ سے ۶ سپا ہی خاں عبد العزیز خان ASI کی قیادت میں آگئے اور مجھے تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں ہم سب کچھ ٹھیک کر لیں گے مگر میری موجودگی میں ہی اس جتھہ کے چند سپاہیوں نے گاؤں کے لوگوں کو بھڑ کایا اور احمدیوں کے خلاف ہر ممکن اقدام کے لیے کہا دوسری طرف مجھے کہا گیا کہ ہمارے کے بعد میں ریو مقیم ہو گئے تھے۔(وفات) ۳۱ دسمبر ۶۱۹۷۶