تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 76
خطوط ڈاکخانہ کے متعصب عملہ کے ہاتھوں تلف ہو جائیں۔آپ نے لکھا : - ر خلاصہ سابقہ خطوط کا یہ ہے کہ میں آج اپنے 9 چھوٹے بڑے بچوں سمیت تیرہ روزہ سے گھر میں بند ہوں۔۔۔۔۔۔بروز جمعہ ۳ بجے سے لے کمرے بجے شام تک سینکڑوں آدمیوں عورتوں اور بچوں کے جلوس نے میرے گھر کے سامنے ماتم کیا اور وہ خش بکا کہ چوڑھے چہار بھی شرمائیں۔اس کا بھی اثر نہ دیکھ کر اب میرا مکمل بائیکاٹ ہے۔کھانا پینا ، دوا۔خاکروب تک کی بندش ہے۔اب دو دفعہ کوشش کی گئی ہے کہ ناگہانی حملہ کر کے قتل کر دیں مگر شام سے صبح تک کی چو کسی کو مولیٰ نے حفاظت کا ذریعہ بنا دیا۔شہر میں مجسٹریٹ اور ایس پی موجود ہیں چوبیس گھنٹوں میں ایک آدھ بار اُن کا آدمی آتا ہے۔اور پوچھ جاتا ہے کوئی تکلیف تو نہیں ؟ کل بعض اشیاء بھی خرید کر دے گئے۔ان کی ہمدردی صرف اس حد تک ہے۔مگر عملاً شہر پر غنڈوں کی حکومت ہے۔جلوس آنرا دانہ پھرتا ہے۔پولیس یا ملڑی چو کی میں بیٹھ کر اپنی حفاظت کرتی ہے۔بڑی کوشش کی ہے کہ رات کو پرہ کے لیے مد رمل جائے خواہ قیمتا ہی۔مگر خروم ہوں کے محترم محمد ابراہیم صاحب عابکہ نائب امیر حلقہ امارت ڈسکہ نے انہی دنوں بذریعہ چھٹی ڈسکہ " ڈسکہ کے کوائف مرکز میں بھجوائے تھے جن میں لکھا:۔ور ہمارے ضلع میں شورش انتہائی زوروں پر ہے۔گاؤں سے بھی لوگ جنھوں کی صورت میں آتے نہیں بلکہ لائے جاتے ہیں۔گاؤں والے مایوس ہو کہ واپس جاتے ہیں کیونکہ آڑ میگت اور خاطر توا منع نہیں کی جاتی۔ڈسکہ میں ہڑتالیں بھی ہوتی ہیں اور جلوس بھی نکالے جاتے ہیں۔۔۔۔۔رات گئے تک نعرے لگائے جاتے ہیں۔عورتیں جلوس کے ساتھ میٹی جاتی ہیں اور مخش گالیاں نکالتی ہیں۔لڑکوں کے غول کے غول گلی کوچوں میں پھرتے ہیں اور بچہ گندے نعرے لگاتے پھرتے ہیں۔احمدیوں کے گھروں کے سامنے سیا پا کیا جاتا ہے۔عور نہیں احمد می مردوں پر آوازے کستی ہیں اور مردوں کو چھیڑتی ہیں تاکہ کوئی فساد کی صورت پیدا ہو سکے۔۔۔۔ناچتے کور د تھے اور شور مچاتے ہیں۔احمدی حضرات پر عورتیں بچے اور مرد اینٹی اور پتھر پھینکتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ چوہدری نذیر احمد کی کو بھی پر بھی پتھر پھینکے گئے ہیں۔ہماری جماعت سے چند دوستوں نے کمزور ہی دیکھا کہ ان میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔باقی دوست ڈٹے ہوئے وفات ۲۰ جنوری ۶۱۹۸۱ -