تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 75 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 75

سب سے پہلے ہم ضلع سیالکوٹ کے مشہور قصبہ سرور کا ذکر کرتے ہیں۔یہ وہ مقام پسرور ہے جہاں پنجاب کے وزیر اعلی میاں ممتاز محمد دولتانہ خود گئے اور مجمع عام میں تحریک کی بر ملا حمایت کی جس سے اس تحریک کے داعیوں اور حامیوں کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی۔عدالتی رپورٹ میں بھی لکھا ہے کہ : ۲۰ جولائی ۱۵۲ء کو سرور کے مقام پر ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کنونش میں چیف منسٹر صاحب نے ایک تقریر کی۔جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ تحریک ختم نبوت کی پوری حمایت کرتے میں بشرطیکہ قانون و انتظام کو کوئی خطرہ در پیش نہ ہو الحفيظ لے اس تقریر کے بعد پسر ویر میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ الامان اس قصبہ میں گنتی کے چند احمدی رہتے تھے ان غریبوں کی نہ ندگی اجیرن بنا دی گئی ان کی مخالفت اس نور اور شدت سے ہوئی اور ایسا منظم بائیکاٹ کیا گیا کہ ان کی نہ زندگیاں خطرے میں جا پڑیں اور یہ سب کچھ محض اس لیے ہو رہا تھا کہ احمدی کسی طرح تنگ آکر اپنے عقائد کو خیر باد کہہ کر اُن کی ہاں میں ہاں ملا دیں۔اور ان کے ہم خیال و ہم عقیدہ بن جائیں۔بعض شورش پسند لیڈر ضلع سیالکوٹ میں جابجا اس قسم کی تقریریں کرتے ہوئے بر ملا یہ کہہ چکے تھے کہ : - - اگر مرزائی اسلام قبول نہیں کریں گے تو ہم اس مقصد کے حصول کے لیے انتہائی کوشش کریں گے اور ایسی صورت میں یہ لوگ زمینوں ، کارخانوں اور بنگلوں کی الاٹمنٹیں کھو بیٹھیں گے بلکہ ربوہ بھی ان کے قبضہ سے نکل جائے گا یہ ہے پسرور کے احمدیوں کے ماحول کا اندازہ لگانے کے لیے ہائی سکول پسرور کے ایک احمدی ٹیچر کی ایک چھٹی کا مختصر سا اقتباس کافی ہے۔یہ چھٹی انہوں نے اپنے ایک عزیز کے ہا محقد ربوہ بھجوائی سختی کیونکہ اس وقت جس قسم کی مخالفت احمدیوں کی ہو رہی تھی انہیں اندیشہ تھا کہ مبادا ان کے ے یہ پورٹ اسے رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ۳۶۲ صح