تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 74 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 74

دار کردیں۔مگر الحمدللہ کہاللہ تعالیٰ نے عض اپنے فضل سے اس موقع پر بھی بچا لیا۔" ایک روز عشاء کے وقت مجھے تایا صاحب نے کہا کہ آؤ نما نہ با جماعت گھر میں ہی ادا کر لیں۔ہم پہلے ہی دو تین روز ( خطروں کی وجہ سے بیت الذکر نہ جا سکے تھے۔پہلے تو میں تیار ہوگیا مگر اس کے معا بعد میرے منہ سے نکلا کہ آپ اکیلے نماز پڑھ لیں مگر اس سے قبل گھر کے برتن بالٹی وغیرہ پانی سے بھر دیں۔چنانچہ انہوں نے پانی بھر کر نماز پڑھنی شروع کر دی اور میں نے مکان کی ایک کھڑکی کے ذریعہ مکان کی حفاظت کی خاطر با ہر دیکھنا شروع کیا ہی منتھا کہ اسے میں لوگوں نے آکر مکان کی ایک بیٹھک کو پٹرول وغیرہ سے آگ لگا دی۔چنانچہ اسی وقت میں نے اور تایا صاحب نے بھرے ہوئے پانی سے آگ پر فوری طور پر قابو پالیا۔ضلع سیالکوٹ کے دوسرے کو کچھ سیالکوٹ شہر میں ہوا وہی کچھ ضلع سیالکوٹ میں بھی ہوا کیونکہ شہر سیالکوٹ کی طرح ضلع سیالکوٹ کیلئے مقامات کے واقعات بھی الگ مجلس عمل بنائی گئی تھی اور احمدیوں کے خلاف پرا سگنڈہ کرنے کا باقاعدہ انتظر کیا گیا تھا جیسا کہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے۔رد مجلس عمل پنجاب کی ہدایت کے مطابق اس ضلع میں ایک مجلس عمل مرتب کی گئی۔اس مجلس عمل نے رضا کاروں کی بھرتی اور سرمائے کی فراہمی کا کام شروع کر دیا۔صاحبزادہ فیض الحسن ضلع میں " جلسوں کا ایک سلسلہ جاری کر کے شدید پراپیگنڈا کرنے میں مصروف رہے یا سا اسی شدید پراپیگنڈے کا یہ فوری اثر ہوا کہ ضلع سیالکوٹ کے وہ دیہات اور قصبات جہاں احمدی مسلمان اور غیر احمدی مسلمان باہمی شیر و شکر ہو کر کہیں رہے تھے ان میں کسی قسم کا عناد اور عداوت نہ ملتی مگر جب احرار کا پراپیگنڈا شدت اختیار کر گیا تو ضلع بھر میں جابجا فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اُٹھی مگر صرف ان قصبات میں جہاں احمدی تھوڑے تھے۔جن دیتا ہے اور قصبات میں کوئی احمدی نہ تھا یا جن میں ان کی اچھی خاصی آیا دی تھی ان تمام مقامات ہیں ہر طرح امن و امان رہا اور کسی قسم کا بھی کوئی فتنہ کھڑا نہ ہوا۔ے رپورٹ ص ۱۷۵