تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 71
میں صرف میں ہی احمدی رہتا ہوں) بس پھر کیا تھا سارا ہجوم میر سے گھر پر پل پڑا۔اور انیٹوں کی بوچھاڑ شروع کر دی اور میرے مکان کی ڈیوڑھی کا دروازہ توڑنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی مکان کو آگ لگانے کی تیاری بھی شروع کر دی۔اس وقت میں اپنے بال بچوں سمیت دعامیں مشغول تھا۔وہ چونکہ بڑا نازک وقت تھا اور میں یہ سمجھ چکا تھا کہ اب یہ لوگ ڈیوڑھی توڑ کر مکان کے اندر گھس آئیں گے اور مار دیں گے۔اس وقت میں نے اپنے بیوی بچوں کو صرف اور صرف یہ وصیت کی احمدیت یعنی حقیقی اسلام ایک نور ہے جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ دنیا میں غالب آکر رہے گا۔اور یہ کہ احمدیت مجھے ورثہ میں نہیں ملی بلکہ محض اللہ تعالے نے اپنے فضل سے سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔یہ لوگ مجھے اب مار دیں گے اور اگر آپ پر یہ ظلم کریں جو یقینا کریں گے تو کمزوری دکھانا اگر تمہاری بوٹیاں بھی اُڑا دیں تب بھی حضرت مسیح موعود۔۔۔۔۔۔۔کی شان کے خلاف کوئی لفظ زبان پر نہ آنے پائے۔اس پر سب نے لبیک کہا۔ادھر میں گھبرایا ہوا یہ وصیت کر رہا تھا۔ادھر اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرشتے میری مدد کو پہنچ چکے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے اس مشتعل ہجوم کو بغیر کوئی نقصان پہنچانے کے واپس بھگا دیا تھا۔میں حوصلہ کر کے ڈیوڑھی کی طرف گیا اور اندر سے کان لگا کر آواز سُننے لگا۔لیکن وہاں کوئی ہوتا تو آواز آتی۔وہ لوگ تو بھاگ چکے تھے۔دروازہ کھولا تو باہر اینٹوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور اینٹیں مار مار کر ڈیوڑھی توڑنے کی کوشش کی۔اندر کا ایک کنڈا کھل بھی گیا تھا لیکن تالہ جو کہ بہت مضبوط انتخا نہ کھل سکا۔باہر نکل کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔دروازہ بند کر کے اوپر آیا اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔پھر وہ رات بڑی بے چینی سے گزری۔ہمارے ہمائے جو کہ سب کے سب غیر احمدی تھے ہماری زندگی سے مایوس ہو چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ رات کو لوگ آکر ہمیں مار ڈالیں گے۔لیکن اللہ تعالٰی نے ہر طرح سے ہماری حفاظت فرمائی۔اور ہم کو با عزت و سلامت رکھا۔الحمد للہ یکا مکرم شیخ عبدالرحیم صاحب پراچہ سیالکوٹ نے اپنی سرگزشت بایں الفاظ لکھ کر دی۔له وفات ۱۸ جنوری ۶۱۹۸۹