تاریخ احمدیت (جلد 15)

by Other Authors

Page 66 of 664

تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 66

F کے دوسرے مقامات میں ظہور پذیر ہوئے۔سیالکوٹ کے احمدیوں کے ایک وفد نے خواجہ محمد صفدر صاحب پریذیڈنٹ مسلم لیگ سے طلاقات کی اور انہیں اس شتعل حالات سے مطلع کیا۔خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ اگر چہ انف اور شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ اور دوسرے مسلم لیگی بے خوف ہو کر احمدیوں کی مدد کریں نگر دولتانہ صاحب کے گزشتہ دورہ پر میں نے اُن سے کہا تھا کہ حالات خطرناک ہوتے جا رہے ہیں۔لیکن وزیر اعلیٰ نے مجھے یہ جواب دیا کہ خدشہ کی کوئی بات نہیں۔مولویوں کے ہمارے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور وہ صوبائی حکومت کے خلاف کوئی مصیبت کھڑی نہیں کریں گے یہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں سور مارچ کے حالات کا ذکرہ بایں الفاظ میں کیا گیا ہے۔دہ دو پہر تک جوم بے انتہا بڑھ گیا اور ٹریفک ڈیوٹی کے پولیس کانسٹیبلوں پر حملے کرنے لگا۔اس کے بعد اس نے ایک جلوس کی صورت اختیار کر لی اور اس شخص کی نعش کو ساتھ لے کہ جو دار الشہابیہ میں مارا گیا تھا گشت کرنے لگا۔یہ ہجوم سٹی مسلم لیگ کے دفتر میں پہنچا اور اس کی لاہٹر میری لوٹ لی۔خواجہ محمد صفدر ایم ایل اے صدر سٹی مسلم لیگ کو اُن کے دفتر سے نکال گیا۔ان کا منہ کالا کیا گیا ہے اور ان کو بازاروں میں پھر ایا گیا۔آخر کرنل خوشی محمد نے ان کو چھڑایا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور تاریخ کے ایک بجے بعد دوپہر سے لے کر ہم تاریخ کے ایک بجے بعد دوپہر تک چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا تھا۔لیکن چونکہ پولیس اور فوج کی نفری کم تھی اسلیے - یہ کرفیو عمل میں نہ لایا جاسکا اور کمشنر نے اس کے اوقات تبدیل کر کے دس بجے شب ساڑھے چار بجے صبح تک کر دیئے۔اسی شام کو ایک غیر احمدی دوست عبدالحی صاحب قریشی کو جنہوں نے ہجوم کو تشدد سے منع کیا تھا زدو کوب کیا گیا اور اس کا گھر لوٹ لیا گیا۔۔۔۔۔تیسرے پہر ایک ہجوم نے ایک اے ایس آئی اور ایک کانٹ میل پر یورش کی۔اسے۔الیں۔آئی راه صدر انجمن احمدیہ کے عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ صد سٹی مسلم لیگ کی تھی یہ توہین آمیز بر تاؤ اس لیے کیا گیا کہ بلوائیوں کے نزدیک خواجہ صا ڈپٹی کمشنر کو سختی کرنے کا مشورہ دیا تھا کا