تاریخ احمدیت (جلد 15) — Page 65
10 فصل سوم ضلع سیالکوٹ تحقیقاتی عدالٹ کی رپورٹ میں ضلع سیالکوٹ کے اندرسہ احمدی احراری نزاع کی ابتدائی تاریخ پر روشنی ڈالنے کے بعد یکم مارچ ۱۹۵۳ء کی نسبت لکھا ہے :۔یکم مارچ سد کو شہر نے کامل ہڑتال کی اور دس ہزار اشخاص کا ایک ہجوم ریلوے اسٹیشن پر رضا کاروں کے اس پہلے دستے کو الوداع کہنے کے لیے جمع ہوا جو زیر سر کر دگی مولوی محمد یوسف " ڈائریکٹ الیکشن میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے روانہ ہو رہا تھا۔اس ہجوم نے بازاروں میں گشت لگایا۔احمدیوں کے خلاف نعرے لگائے اور حکومت با لخصوص وزیر اعظم پاکستان کو گالیاں دیں یہ لے صدر انجمن احمدیہ کے عدالتی بیان میں ہے۔رو را در امر مارچ ۱۹۵۳ء کو مجلس عمل کے ممبروں کی گرفتاری کی وجہ سے حالات نے منتشر دانہ صورت اختیار کرلی اور حکام کو گولی چلانی پڑی اور فوج بلائی گئی۔فوج کی آمد سے قبل دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکلتے رہے۔اور پولیس کی انتہائی کوششوں کے باوجود شرپسند لوگ منتشر نہ ہوئے اور قاتلانہ ہتھیاروں کے ساتھ احمدیوں پر حملے جاری رہے۔اور سات اشخاص کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں شدید ضربات آئیں اور شہر میں دس احمدیوں کو خوفزدہ کر کے احمدیت سے منحرف کیا گیا تھا نہ پسرور میں دس احمدیوں کو خوفزدہ کر کے یہ اعلان کرنے پر مجبور کیا گیا کہ انہوں نے احمدیت ترک کر دی ہے۔اس۔۔۔۔بارہ میں متعلقہ پولیس اسٹیشن کے افسر کے پاس شکایت کی گئی لیکن اس نے دخل دینے سے انکار کر دیا۔اس قسم کے لا انتہاء واقعات ضلع ے رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو ما